’قانون کے سامنے مساوات جمہوری طرز حکمرانی کیلئے سب سے زیادہ ناگزیر خصوصیت ہے‘‘/ نائب صدر ہند

دہائی پہلے ہمارے ملک کو کمزور سمجھا جاتا تھا، جو عالمی معیشت پر ایک بوجھ تھالیکن اب ہم پانچ بڑی عالمی معیشتوں میں شامل

سرینگر // اب وہ وقت ہے جب میرٹ کریسی غالب ہے اور نوجوان اپنے خوابوں کی خواہش اور تکمیل کر سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کی بات کرتے ہوئے نائب صدر ہند جگدیپ دھنکر نے اس بات پر زور دیا کہ ’’قانون کے سامنے مساوات جمہوری طرز حکمرانی کیلئے سب سے زیادہ ناگزیر خصوصیت ہے‘‘۔ سی این آئی کے مطابق نئی دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے 125 ویں یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کرتے نائب صدر ہند جگدیپ دھنکھر نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان بدعنوانی سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ اقربا پروری، جانبداری سے دھوکہ محسوس کرتے ہیں۔گورننس ایکو سسٹم میں حالیہ اصلاحات کی ستائش کرتے ہوئیانہوں نے روشنی ڈالی کہ پاور کوریڈور اب بدعنوان عناصر سے مکمل طور پر پاک ہو چکے ہیں، اور ایک شفاف، جوابدہ نظام موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ وقت ہے جب میرٹ کریسی غالب ہے اور نوجوان اپنے خوابوں کی خواہش اور تکمیل کر سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اپنے خطاب میں دھنکھر نے اس بات پر زور دیا کہ ’’قانون کے سامنے مساوات جمہوری طرز حکمرانی کیلئے سب سے زیادہ ناگزیر خصوصیت ہے‘‘۔ حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا،’’اب کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، قانون کا لمبا بازو ہر کسی تک پہنچ رہا ہے خاص طور پر ان لوگوں تک جنہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ قانون کے سامنے جوابدہ ہوں گے‘‘۔قانون کی حکمرانی کے احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ قانون کا احترام قوم پرستی کا احترام ہے، قانون کا احترام جمہوریت کا احترام ہے اور قانون کا احترام میرٹ کا احترام ہے، قانون کا احترام بدعنوانی کو روکتا ہے۔طاقت اور اختیار کے عہدوں پر فائز لوگوں سے مطالبہ کرتے ہوئے دھنکھر نے زور دیا کہ یہ سب کی اولین ذمہ داری ہے خاص طور پر اقتدار اور اختیار کے عہدوں پر فائز لوگوں کا قانون کا احترام کرتے ہوئے ایک مثال قائم کرنا۔پچھلی دہائی کے دوران ہندوستان کے معاشی عروج پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ دہائی پہلے ہمارے ملک کو کمزور پانچ کا حصہ سمجھا جاتا تھا، جو عالمی معیشت پر ایک بوجھ تھا. لیکن اب ہم ان پانچ بڑی عالمی معیشتوں میں شامل ہیں۔ G20 کے مستقل رکن کے طور پر افریقی یونین کی شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے زور دیا کہ اب ہندوستان کی آواز عالمی سطح پر سنی گئی ہے اور ہمارے ملک کی عالمی شبیہ میں اضافہ ہوا ہے۔