jitandar singh

شاہ پور کنڈی پروجیکٹ جموں و کشمیر اور پنجاب کی تقدیر بدل دے گا

مودی حکومت نے دہائیوں سے التوا کا شکار شاہ پور کنڈی منصوبہ بحال کیا// ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سرینگر// مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ، جو کئی دہائیوں تک سرد خانے کی نذر رہا، اب تکمیل کے قریب ہے اور اس سے جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں زرعی اور معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔یو این ایس کے مطابق جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ طویل عرصے سے زیر التوا منصوبہ استقامت اور ترقی کی ایک مثال ہے، جو مکمل ہونے کے بعد دونوں ریاستوں کے سرحدی علاقوں میں آبپاشی کی سہولیات کو بہتر بنائے گا اور زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1970 کی دہائی کے اواخر میں دریائے راوی کے پانی کو ملک کے اندر مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے مقصد سے شاہ پور کنڈی منصوبہ تجویز کیا گیا تھا۔مرکزی وزیر کے مطابق اس منصوبے کا سنگ بنیاد 1984 میں اْس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے رکھا تھا، تاہم ان کے قتل کے بعد یہ منصوبہ پس منظر میں چلا گیا اور مرکز و جموں و کشمیر کی اْس وقت کی حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث کئی برسوں تک تعطل کا شکار رہا۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ اس دوران جموں و کشمیر اور پنجاب کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا، ضروری دستاویزات تیار کی گئیں اور مختلف رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2019 میں جموں میں ایک عوامی جلسے کے دوران اس منصوبے کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل سے خطے کے عوام کا ایک دیرینہ خواب پورا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہ پور کنڈی پروجیکٹ سے جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں وسیع پیمانے پر آبپاشی کی سہولت دستیاب ہوگی، زرعی شعبہ مضبوط ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا، جس سے پورے خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔