پانی میں پھینکے گئے موبائیل کو بر آمد کرنے کیلئے مارکوز، ایس ڈی آر ایف اور بحریہ کے اہلکاروں کی خدمات حاصل
سرینگر // شالہ کدل حبہ کدل سرینگر میں پنجاب کے دو شہریوں کی ہلاکت میں ملوث ہائی بریڈ ملی ٹنٹ کی نشاندہی پر پولیس و دیگر ایجنسیوں نے موبائل فوج اور دیگر قابل اعتراض مواد بر آمد کرنے کیلئے علی جان روڑ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ اس آپریشن میں مارکوز، ایس ڈی آر ایف اور بحریہ کے اہلکاروں کی مدد لی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شالہ کدل سرینگر میں پنجاب کے دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد جموں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میںملوث ایک مقامی ہائی بریڈ ملی ٹنٹ کی گرفتاری عمل میں لائی ہے جس کے بعد انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے موبائیل فوج اور کچھ دیگر مواد سعید پورہ علاقے میں پانی میں پھینک دیا ۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ہائی بریڈ ملی ٹنٹ عاقب احمد لنگو نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنا موبائیل فون جس کے ذریعے وہ پاکستانی ہینڈلرس کے ساتھ رابطے میں تھا سعدہ پورہ علاقے میں پانی میں پھینک دیا ہے ۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ عاقب احمد لنگو کی گرفتار ی کے بعد اس سے مسلسل پوچھ تاچھ کے بعد ملزم نے انکشاف کیا کہ موبائل فون جس سے وہ پاکستان میں مقیم اپنے ہینڈلرس سے رابطہ کرتا تھا کو انہوں نے آئیوا پل کے قریب سیدا پورہ میں ایک آبی ذخائر میں جو علی جان روڈ کے ساتھ گرتا ہے میں پھینک دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ موبائل فون اور دیگر مجرمانہ مواد کو آبی ذخائر سے باہر لایا جائے جس کے چلتے ان دونوں جگہوں پر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے مخصوص مقامات، جہاں آج صبح سے ہم نے مارکوس، ایس ڈی آر ایف اور بحریہ کے اہلکاروں کی مدد طلب کی ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مطلوبہ مواد مل گیا اور کامیابی کے ساتھ سامنے لایا جائے گا، جس سے ہمیں تحقیقات کو آگے بڑھانے میں کافی مدد ملے گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈی آئی جی سنٹرل کشمیر کے ذریعہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کے بعد کارروائی میں تیزی آئی ہے۔










