کارروائی ایک منظم منشیات سپلائی نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران عمل میں لائی گئی/ ایس ایس پی سرینگر
سرینگر/یواین ایس / سرینگر پولیس نے شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں مبینہ طور پر سرگرم منشیات کے ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے گرفتار افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں ممنوعہ منشیات، ایک پستول، 85 لاکھ 76 ہزار روپے سے زائد نقدی اور ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا سونا برآمد کیا ہے۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی سرینگر جی وی سندیپ چکرورتی نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک منظم منشیات سپلائی نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران عمل میں لائی گئی۔ ان کے مطابق اس نیٹ ورک میں مبینہ طور پر مختلف افراد کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں اور شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں منشیات کی سپلائی کا ایک منظم سلسلہ قائم تھا۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن صفا کدل میں ایف آئی آر نمبر 135/2026 درج کی گئی ہے، جس میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی مختلف دفعات کے علاوہ آرمز ایکٹ اور بی این ایس کی دفعہ 111 بھی شامل کی گئی ہے۔گرفتار افراد کی شناخت محمد وسیم زرگر ساکن پتی پورہ چھتہ بل، حارث حمید ملا ساکن گزر بل چھتہ بل، عاقب سلیم دار ساکن رام پورہ چھتہ بل، انعام احمد زرگر ساکن ہفتیار صفا کدل، صاحب احمد گنائی ساکن دانہ مزار صفا کدل، انصار حسین بٹ ساکن زبر محلہ بڈگام، پیر شکور ساکن پالپورہ نور باغ اور ہارون پنڈت ساکن گزر بل چھتہ بل کے طور پر کی گئی ہے۔ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران 3.830 کلوگرام کوڈین، تقریباً 40 گرام ہیروئن، ٹراماڈول پر مشتمل 414 گولیاں اور کیپسول، تقریباً 2 لاکھ 18 ہزار 500 ٹیپیٹادول گولیاں اور پریگابالین کے 1200 کیپسول برآمد کیے۔پولیس نے ایک پستول کے علاوہ تقریباً 85 لاکھ 76 ہزار روپے نقدی بھی برآمد کی۔ اس کے ساتھ ساتھ 108 سونے کے سکے اور تقریباً 17 گرام ایم ایم ٹی سی پیمپ سونے اور زیورات بھی برآمد کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ 29 ہزار 400 روپے بتائی گئی ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ مختلف بینک کھاتوں میں موجود تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ روپے بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ محمد وسیم زرگر سے منسوب ایک رہائشی مکان اور دو گاڑیاں، جن میں ماروتی بریزا نمبر JK01AK-7523 اور سوزوکی ارٹیگا نمبر JK01AX-4601 شامل ہیں، کو بھی پولیس نے منسلک کیا ہے۔پولیس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ جموں و کشمیر سے باہر بھی بڑھایا گیا ہے اور پولیس ٹیموں نے چندی گڑھ اور پنجاب تک تحقیقات کی ہیں۔ پنجاب پولیس اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے بھی تحقیقات میں تعاون کیا ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ منشیات کی سپلائی کے لیے کن ٹرانسپورٹ ذرائع کا استعمال کیا جاتا تھا اور اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید تقسیم کاروں اور دیگر افراد کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق مزمل فردوس کھانڈے، فرزان پلوالا اور اتر پردیش کے مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے محمد شرور تاحال فرار ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں بھی متوقع ہیں۔ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس کا مقصد صرف گرفتاریوں اور منشیات کی برآمدگی تک محدود نہیں بلکہ پورے منشیات سپلائی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔










