محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اوردرمیانہ دار 50 ہزار روپے رشوت لیتے گرفتار
سرینگر/یواین ایس / اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) سرینگر نے محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر لا انفورسمنٹ ناصر احمد خان اور ایک مبینہ دلال کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اے سی بی کے مطابق دونوں کو ایک بیج ڈیلر سے غیر قانونی رقم طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔اے سی بی کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ناصر احمد خان نے اسے اپنی دکان پر پودوں کے بیج فروخت کرنے کی اجازت دینے کے عوض 2 لاکھ روپے رشوت طلب کی تھی۔ شکایت کنندہ پہلے ہی ایک لاکھ روپے ادا کر چکا تھا، جبکہ بعد ازاں بات چیت کے بعد باقی رقم 50،50 ہزار روپے کی دو قسطوں میں ادا کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔مزید رقم ادا کرنے سے گریز کرتے ہوئے شکایت کنندہ نے اے سی بی سے رجوع کیا اور متعلقہ سرکاری افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی۔بیورو کے مطابق شکایت کی ابتدائی تصدیق کے دوران غیر قانونی رقم طلب کیے جانے کے الزامات بادی النظر میں درست پائے گئے، جس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی سرینگر میں ایف آئی آر نمبر 16/2026 درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعات 7 اور 7 اے کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 61(2) شامل کی گئی ہے۔اے سی بی نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کے بعد 30 ستمبر 2026 کو ملزمان کو رشوت لیتے ہوئے پکڑنے کے لیے ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی۔اے سی بی کے مطابق کارروائی کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر لا انفورسمنٹ ناصر احمد خان کو محمد اویس بٹ ساکن قمر واری کے ساتھ مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے 50 ہزار روپے رشوت طلب اور وصول کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اے سی بی نے محمد اویس بٹ کو ناصر احمد خان کا مبینہ دلال قرار دیا ہے۔دونوں افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا جبکہ مبینہ رشوت کی رقم 50 ہزار روپے بھی ان کے قبضے سے برآمد کی گئی۔گرفتاری کے بعد دونوں ملزمان کو طبی اور قانونی کارروائی کے لیے لے جایا گیا اور بعد میں محفوظ تحویل کے لیے پولیس اسٹیشن شہید گنج سرینگر میں رکھا گیا۔اے سی بی نے کہا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










