ریاض//ایجنسیز// مدینہ منورہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر کئے گئے دہشت گرد انہ حملہ پر امام حرم نبویؐ الشیخ صالح المغامسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں کی طرف سے حرمین پر حملہ زمین میں فساد ہے جبکہ انہوں نے اشارہ کیا کہ حوثی اپنے لیے خود شر کو دعوت دے رہے ہیں۔ان پیشرفت کے سامنے امام حرم نبویؐ الشیخ صالح المغامسی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو میں تصدیق کی کہ مسلمان حرمین پر حوثی حملہ کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور مدینہ منورہ پر حملہ کو تمام مسلمانوں کیلئے ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ یہ تمام مسلمانوں پر حملہ ہے۔ حوثی ملیشیا نے گذشتہ ماہ کے وسط میں مکہ مکرمہ پر اپنے حملہ کے بعد ایک بار پھر حرمین اور مقدس مقامات کو نشانہ بنایا ہے جو کہ سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ اشتعال انگیزی کے مترادف ہے۔اسی تناظر میں الشیخ صالح المغامسی نے کہا کہ حوثیوں نے اپنے ہتھیار کریم رسولؐ کے شہر پر تانے ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی طرف سے مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش شدید قابل مذمت ہے۔یمن میں آئین کی بحالی کیلئے سرگرم عرب اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ منگل کو صبح 5:11 بجے مدینہ منورہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر ایک دہشت گرد حملہ ہوا جبکہ متعلقہ حکام کے تفتیشی نتائج نے آپریشنل ریویو اور استعمال شدہ ڈرون کے ملبہ کے ذریعہ اس حملہ کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں حوثی دہشت گرد ملیشیا کے ملوث ہونے کو ثابت کر دیا۔اتحاد نے واضح کیا کہ اس دہشت گرد کارروائی کی وجہ سے بجلی کا ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہو گیا جبکہ بجلی کا نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا اور اس بات پر زور دیا کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی الشریف کو بجلی کی خدمات فراہم کرنے والے ایک مدنی اثاثہ کو نشانہ بنانے کی یہ بزدلانہ دہشت گرد کارروائی حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی اس انتہا پسند ملیشیا کی کوششوں کا تسلسل ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنا کر دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو ابھارنے کا مسلسل ارادہ ہے۔ریاض نے ایک بار پھر عالمی برادری سے ان سنگین حملوں کی مذمت کرنے اور مقدس مقامات مملکت کے شہری اور اقتصادی اثاثوں پر حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں اور تجارتی جہازوں نیز بین الاقوامی تجارت کیلئے حوثی ملیشیا کی طرف سے سمندری جہاز رانی کی آزادی کو خطرہ میں ڈالنے کے خلاف ایک فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔










