کہا،پوجیہ باپو کی سچائی اور عدم تشدد کا پیغام آج بھی مشعلِ راہ ہے
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے محکمہ سکولی تعلیم اور محکمہ ثقافت کے اِشتراک سے منعقدہ گاندھی جینتی تقریب میں شرکت کی۔ اُنہوں نے ’بابائے قوم‘ پوجیہ مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش پر جموں و کشمیر کے شہریوں کو دلی مُبارک باد پیش کی ۔اُنہوں نے ثقافتی پروگراموں میں حصہ لینے والے بچوں کے ساتھ ساتھ سچائی اور عدم تشدد پر منعقدہ ضلعی سطح کے سمپوزیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبأکو بھی سراہا۔اُنہوں نے گلزار احمد کی جانب سے باپو کے بھجن کی کشمیری پیشکش، اِنسٹی چیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس کے طلبأ کی ہندی پرفارمنس اور گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کوٹھی باغ کے پیش کردہ سکٹ کی بھی ستائش کی ۔لیفٹیننٹ گورنر نے 2؍ اکتوبر کی اہمیت کواُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دِن مہاتما گاندھی کی زِندگی اور فلسفے پر غور و فکر کرنے کا موقعہ ہے جنہوں نے ہندوستان کو سوچنے کا نیا انداز دیا، نااِنصافی کے خلاف کھڑے ہونے اورعزت و وقار کے ساتھ جینے کا طریقہ سکھایا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ گاندھی جی کی سچائی اور عدم تشدد کی میراث آج کی تیزی سے بدلتی اور ٹیکنالوجی پر مبنی دُنیا میں بھی اَپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میرا ماننا ہے کہ قابلِ احترام باپو نے ہمارے لئے بہت سی انمول چھوڑ گئے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیں ایک نیا طریقہ، نئے اصول، زِندگی کا ایک نیا انداز اور ایک ایسا نیا نظام دیا جو آج بھی ہر نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔‘‘ منوج سِنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے اگرچہ دُنیا بھر کے لوگوں کو جوڑ دیا ہے لیکن اس نے شمولیت اور سچائی کے سوالات بھی کھڑے کئے ہیں۔ اُنہوں نے غلط معلومات سے خبردار کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ گاندھی جی کے طریقے کو اَپنائیں۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ’’ستیہ میو جیتے یعنی سچ ہی کی جیت ہوتی ہے‘ کو جمہوریت کا رہنما اصول رہنا چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’باپو سچائی اور طاقت کے رشتے کو بہت گہرائی سے سمجھتے تھے۔ وہ اَپنی زِندگی کو’سچ کی تلاش میں کئے جانے والے ایک تجربے‘ سے تعبیر کرتے تھے۔میرا ماننا ہے کہ سچائی ایک روحانی مشق (سادھنا) ہے۔ سچائی کسی بھی حقیقت یا معلومات پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کی عادت ہے اور سچائی کسی بھی بات کا فوری جواب دینے سے پہلے اسے سننے اور سمجھنے کا نام ہے۔‘‘اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو اِنسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے اور ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے، ضمیر کا متبادل نہیں۔ اُنہوں نے بچوں اور نوجوانوں سے کہا کہ وہ جدید آلات کو ذِمہ داری سے اِستعمال کریں اور اِنسانی اَقدار سے جُڑے رہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں چاہتا ہوں کہ تمام بچے اور نوجوان یہ یاد رکھیں کہ ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے اورفیصلہ ہمارا ہی ہونا چاہیے ۔ آلہ خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی سمت کا تعین بالآخر اسے تھامنے والا ہاتھ ہی کرتا ہے۔‘‘اُنہوں نے تنوع میں ہندوستان کی طاقت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اِنصاف ، احترام اور ہمدردی پر مبنی روزمرہ کے اَقدامات کے ذریعے اتحاد کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے معاشرے کے کمزور ترین فرد کے تئیں گاندھی جی کی فکر کا ذکر کیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ ترقی کا پیمانہ شمولیت اور فلاح و بہبود کو بنائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’قدیم زمانے سے ہندوستان تنوع کی سرزمین رہا ہے۔ ہماری زبانیں مختلف ہیں، ہمارے عبادت کے طریقے مختلف ہیں، ہمارا لباس اور رسم و رواج مختلف ہیں لیکن ہماری عظیم روایت نے ہمیں سکھایا ہے کہ تنوع کے ساتھ مل کر چلنا ہی ہندوستان کی طاقت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آج اس فلسفے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔‘‘اُنہوںنے اس یقین کا اظہار کیا کہ گاندھی جی کا فلسفہ ہندوستان کو 2047 تک ایک’ ترقی یافتہ ملک‘ بننے کے ہدف کی طرف رہنمائی کرے گا۔منوج سِنہا نے کہا ،’’ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمارے سامنے ایک ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کا خاکہ پیش کیا ہے؛ ایک ایسا ہندوستان جو ایک مضبوط معیشت کا حامل ہو، جہاں عوام میں خوشحالی اور مواقعوں میں اضافہ ہو، وقار کو فروغ ملے اور ہر شہری کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پوجیہ باپو نے خود انحصاری پر زور دیا تھاجس میں دیہات کے چھوٹے کاروبار بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم پوجیہ باپو کے انہی خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں اور آتم نربھر بھارت مہم مقامی مصنوعات، دستکاروں، چھوٹے کاروباروں اور ہمارے کسانوں کو نئی طاقت دے رہی ہے تاکہ وہ عالمی منڈی کے ساتھ شانہ بشانہ آگے بڑھ سکیں۔‘‘اُنہوں نے ٹرسٹی شپ، عوامی شراکت اور بچوں میں کردار سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کسی قوم کا کردار ہی اس کا سب سے دیرپا بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا ،’’ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لئے ہمیں اپنے کھیتوں، سکولوں، دیہاتوں، شہروں اور صنعتوں کو تیار کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر بچوں میں کردار سازی پر خاص زور دینا ہوگا۔ باپو کا پختہ یقین تھا کہ قوم کا کردار ہی اس کا سب سے دیرپا بنیادی ڈھانچہ ہے۔اُنہوںنے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ٹیکنالوجی کی بے مثال طاقت کو نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ اِستعمال کریں۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ ایسا ہندوستان تعمیر کریں جو جدید ہو مگر ہمدرد، خوشحال ہو مگر منصف، طاقتور ہو مگر حساس اور سب سے بڑھ کر متحدہو۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’2047 میں جب ہم آزاد ہندوستان کی صد سالہ تقریب منائیں گے، تو ہمیں ہندوستان کی کامیابی کا اندازہ صرف بنیادی ڈھانچے سے نہیں لگانا چاہیے بلکہ اس بات سے بھی لگانا چاہیے کہ ہم نے کتنے محروم لوگوں کو اوپر اٹھایا ہے اور کتنے لوگوں تک مواقع پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘گاندھی جینتی کی تقریب میں وزیر برائے صحت و طبی تعلیم ، سکولی و اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو ، پدم بھوشن شری راجیو سیٹھی،صدر گاندھی گلوبل فیملی جموںوکشمیر پدم شری ڈاکٹر ایس پی ورما،کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم رام نواس شرما، سینئر اَفسران، ممتاز شہری ، تعلیمی اِداروں کے سربراہان، اَساتذہ اور بڑی تعداد میںطالب علموں نے شرکت کی۔










