کونسل آف منسٹرز کی منظور ی کے بعد پالیسی نوٹیفائی ،سی بی جی پروجیکٹوں کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری میں معاونت ، رعایتی نرخوں پر زمین ،60 دِن میں منظور ی اور ٹیکس مراعات کی سہولیت
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جے اینڈ کے کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) پالیسی۔ 2026 کو جموں و کشمیر میں صاف توانائی کے فروغ، سرکیولراکانومی کو مضبوط بنانے اور آرگنک ویسٹ کو دولت میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔وزیر اعلیٰ کی صدارت میں کونسل آف منسٹرز کی منظوری کے بعد حکومت نے جموں و کشمیر کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) پالیسی ۔2026 نوٹیفائی کر دی ہے جوآرگنک ویسٹ کو صاف ایندھن اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے کا ایک جامع لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔اِس پالیسی کا مقصد مختلف اقسام کے آرگنک ویسٹ جن میں مویشیوں کا گوبر، سیب کا پومیس، میونسپل سالڈ ویسٹ ، چیڑ کی پتیاں اور فصلوں کی باقیات شامل ہیں، کے استعمال کو آسان بنا کر سی بی جی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ اِس پالیسی کا مقصد بیک وقت ویسٹ مینجمنٹ، توانائی کے تحفظ، دیہی روزگار اور دیرپا زرعی طریقوں کے مسائل کو حل کرنا ہے۔پالیسی کی ایک اہم خصوصیت 0.50 کروڑ روپے فی ٹی پی ڈی کی سرمایہ جاتی اخراجات کی معاونت ہے جس کی حد فی پروجیکٹ 10 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ سرکاری اراضی 1 روپیہ فی مربع میٹر کے برائے نام لیز ریٹ پر فراہم کی جائے گی اور اسٹامپ ڈیوٹی سے صد فیصد چھوٹ ہوگی۔پالیسی میںکاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے ’سنگل وَنڈو پورٹل ‘کے ذریعے غیر قانونی اِجازتوں کے لئے 60 دن میں ڈیمڈ منظوری کا نظام رکھا گیا ہے یعنی اس کا مطلب ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر درخواست پر فیصلہ نہ ہو تو اسے منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔پالیسی میںکام کے آغاز کے پہلے پانچ برسوں کے لئے صد فیصد ایس جی ایس ٹی کی واپسی، مقامی غیر ہنر مند مزدور کے لئے دوبرس تک 3,000 روپے ماہانہ فی کارکن اَفرادی قوت سبسڈی اور بینک کے طویل مدتی قرضوں پر 2 کروڑ روپے تک کی سودپر رعایت کی سہولیت بھی شامل ہے۔ حکومت بائیو کھاد کے لئے خام مال کی یکجا فراہمی اور مارکیٹ روابط میں بھی سہولیت فراہم کرے گی اور اس پالیسی کا ہدف 10,000 کسانوں تک بائیو کھاد کی تقسیم ہے۔ اِس اَقدام کے تحت 2030 تک دیہی علاقوں میں تقریباً 2,000 براہ راست ملازمتیں پیدا کرنے اور سی بی جی ویلیو چین میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔یہ پالیسی2032ء تک نافذالعمل رہے گی اور اس کا مقصد گرین سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول پیداکرنا ،غیر مرکوزیت فضلہ سے توانائی کے حل کو فروغ ینا اور دیہی معیشتوں کو مضبوط بنانا ہے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ستیش شرما اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کو پالیسی نوٹیفائی کرنے پر مُبارک باد دِی۔اُنہوں نے اسے دیرپا توانائی کی ترقی اور ایک صاف ستھرے اور وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال والے جموں و کشمیر کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔










