ہندوستان صرف دفاعی سامان خریدنے والا ملک نہیں بلکہ دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے ممالک میں شامل// وزیر اعظم
سرینگر// وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو کولکاتا میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران ہندوستانی بحریہ کے تین جدید جنگی اور معاون بحری پلیٹ فارمز، آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس آگرے، کو باضابطہ طور پر بحریہ میں شامل کیا۔ حکومت نے اس اقدام کو ملک کی بحری طاقت، دفاعی خود انحصاری اور مقامی دفاعی صنعت کی مضبوطی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ تقریب ’’آتم نربھر بھارت‘‘، محفوظ بھارت اور ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک مضبوط بحری صلاحیتوں کے بغیر عالمی طاقت نہیں بن سکتا کیونکہ ترقی، سلامتی اور خوشحالی کا گہرا تعلق سمندروں سے ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی بیشتر تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے جبکہ عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورکس کا ایک بڑا حصہ بھی سمندروں کے نیچے موجود انفراسٹرکچر پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں توانائی، معدنی وسائل اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی بحری شعبہ ہی ہوگا، اس لیے ہندوستان اپنی سمندری صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس آگرے صرف تین نئے بحری جہاز نہیں بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی مہارت، انجینئرنگ صلاحیت اور دفاعی خود کفالت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام پلیٹ فارمز ہندوستان میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے ہیں، جو ملک کی دفاعی صنعت کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اب صرف دفاعی ساز و سامان خریدنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا بلکہ دنیا کے اہم دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ملک کی دفاعی پیداوار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تھی جو اب بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران 40 سے زائد مقامی طور پر تیار کردہ جنگی جہاز اور آبدوزیں بحریہ میں شامل کی جا چکی ہیں جبکہ اس وقت 45 بڑے بحری پلیٹ فارمز مختلف شپ یارڈز میں زیر تعمیر ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار ہندوستان کی صنعتی ترقی اور دفاعی شعبے میں بڑھتی ہوئی خود انحصاری کا واضح ثبوت ہیں۔وزیراعظم نے بحری شعبے کو روزگار اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید جہاز سازی کے منصوبوں سے اسٹیل، الیکٹرانکس، مشینری اور دیگر صنعتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان تینوں بحری جہازوں کی تعمیر میں 200 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں نے حصہ لیا ہے۔دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے بھی اس موقع پر کہا کہ یہ تینوں جدید بحری پلیٹ فارمز ہندوستان کے مضبوط دفاعی صنعتی نظام اور ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جہاز ملک کے سمندری مفادات کے تحفظ اور بحر ہند کے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔آئی این ایس دوناگیری پروجیکٹ 17 اے کے تحت تیار کی گئی جدید اسٹیلتھ فریگیٹ ہے جو جدید میزائل نظام، فضائی دفاعی ہتھیاروں اور آبدوز شکن صلاحیتوں سے لیس ہے۔ یہ جہاز طویل فاصلے تک آپریشن انجام دینے اور مختلف اقسام کے ہیلی کاپٹروں کو اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔آئی این ایس سنشودھک ایک جدید سروے ویسل ہے جو سمندری نقشہ سازی، ہائیڈروگرافک سروے اور سمندری وسائل کے سائنسی مطالعے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ جہاز جدید ہائیڈروگرافک اور اوشیانوگرافک آلات سے لیس ہے اور ضرورت پڑنے پر اسپتال جہاز کے طور پر بھی خدمات انجام دے سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق آئی این ایس آگرے بحریہ کا جدید اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ ہے جو کم گہرے سمندری علاقوں میں دشمن آبدوزوں کا پتہ لگانے اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں جدید سونار، ٹارپیڈو، اینٹی سب میرین راکٹ اور جدید جنگی انتظامی نظام نصب کیا گیا ہے۔بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں پلیٹ فارمز کی شمولیت سے ہندوستانی بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سمندری مفادات کے تحفظ میں مزید مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے ان جہازوں کی تعمیر میں شریک انجینئروں، سائنسدانوں، صنعت کاروں اور کارکنوں کی خدمات کو سراہا۔تقریب میں مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس، متعدد اعلیٰ فوجی حکام، بحریہ کے افسران اور دفاعی صنعت سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔ماہرین کے مطابق آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس آگرے کی بحریہ میں شمولیت نہ صرف ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو نئی تقویت دے گی بلکہ بحر ہند کے خطے میں ملک کے تزویراتی کردار اور سمندری اثر و رسوخ کو بھی مزید مستحکم کرے گی۔










