نئی دہلی/ایجنسیز// امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے پر جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان کے لیے راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ تین ہندوستانی پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ہفتہ کوآبنائے ہرمز سے بحفاظت پار ہوئے اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی ہندوستانی بندرگاہوں پر پہنچ جائیں گے۔مرکزی جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ معلومات شیئر کی ہے۔ ویبھو نامی یہ ٹینکر 24 جون کو گجرات کے وادینر بندرگاہ پر پہنچنے والا ہے۔ جہاز میں 37 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور 286,572 میٹرک ٹن خام تیل سے لدا ہوا ہے۔ دوسرا ٹینکر، وبھور، بھی 24 جون کو گجرات کے سکّا بندرگاہ پر پہنچے گا۔ اس جہاز میں 27 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور اس میں 288,893 میٹرک ٹن خام تیل ہے۔ تیسرا جہاز، سین مار ہیرالڈ، ہندوستان کے مشرقی ساحل کیلئے روانہ ہوا اور توقع ہے کہ یکم جولائی کو پہنچے گا۔ اس جہاز میں 30 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور اس میں 285,400 میٹرک ٹن خام تیل ہے۔مرکزی وزیر سونووال نے کہا کہ ان جہازوں میں کل 8.6 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل اور 94 ہندوستانی عملے کے ارکان ہیں۔امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رکھنے کے بعد خطہ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستانی پرچم والے 13 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنس گئے۔ ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی دوبارہ بندش کا اعلان کردیا۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی معاہدے میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رہے گی اور امریکہ کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ہرمز کے راستے جہاز رانی دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔










