حکومت نے جموں وکشمیر میں شفاف بھرتی نظام قائم کیاہے

جموں وکشمیر میں نوجوانوں کیلئے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ممکن ، تیجسوانی ، سہیتا جیسی سکیمیں شروع

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر نے نوجوانوں کے لئے بغیر کسی طرفداری اور امتیاز کے ایک نیا شفاف بھرتی نظام قائم کرنے کو یقینی بنایا ہے۔جموںوکشمیر میں بے روزگاری 70 برسوں سے ایک بڑی پریشانی بنی ہوئی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی عدم موجودگی میں لوگ باوَقار سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرتے تھے کیوں کہ اسے محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔جموںوکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں شفاف طریقے سے کی گئی ہیں جو اِس بات کی زندہ مثال ہے کہ کس طرح رشوت سے پاک ، شفاف اور منصفانہ نظام پسماندہ طبقے کی ترقی میں اہم کردار اَدا کرتا ہے ۔ قابلِ اعتماد اور اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے اِداروں کی جانب سے تحقیقات کا عمل شروع کیا گیا ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے حال ہی میں جموںوکشمیر پولیس میں سب اِنسپکٹروں کی بھرتی کو منسوخ کیا جب کچھ اُمیدواروں نے اِلزام لگایا کہ یہ عمل منصفانہ طریقے سے اَنجام نہیں دیا گیا ۔اُمید واروں کی شکایت پر فوری کارروائی کی گئی اور اَنکوائری کمیٹی قائم کی گئی ۔ پینل نے اِنتخابی عمل میں تضادات کی نشاندہی کی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر فہرست کو منسوخ کیا او رواضح کیا کہ کسی کو بھی بیک ڈور سے منتخب نہیں کیا جائے گا۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموںوکشمیر میں روزگار کے مواقع پر بات کرتے ہوئے کہا ،’’ یہ غلط تاثر تھا کہ جموںوکشمیر یوٹی میں ملازمتیں نہیں ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا،’’ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ حکومت جموںوکشمیر نے گذشتہ برس اَپنی تاریخ میں سب سے زیادہ سویلین جابس دی ہیں ۔ نوکریاں موجود ہیں لیکن وہ فروخت کے لئے بازار میں نہیں ہیں۔‘‘یہ بات قابل ذِکر ہے کہ پارلیمنٹ کے جاری اِجلاس کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتا نند رائے نے ایوان کو بتایا کہ اگست 2019ء سے جون 2022ء تک حکومت جموںوکشمیر کے ذریعہ 29,806 اُمید واروں کو بھرتی کیا گیا اور خود روزگار سکیموں سے تقریباً5.2لاکھ ملازمتیں پیدا کی گئیں۔حکومت نے گذشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کو اَپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد کرنے کے لئے متعدد خود روزگار سکیمیں متعارف کی ہیں ۔ مشن یوتھ جموںوکشمیر اِنتظامیہ کی جانب سے سب سے زیادہ فائدہ مند اَقدامات میں سے ایک رہا ہے۔مشن یوتھ کے تحت ’’ ممکن ‘‘ سکیم نے ٹرانسپورٹیشن شعبے میں ایک پائیدار لائیو لی ہڈ لائن قائم کرنے کے لئے سبسڈی کی بنیاد پر چھوٹی تجارتی گاڑیاں خریدنے میں بے روزگار نوجوانوں کی مدد کی ہے ۔’’ سپررِنگ اَنٹرپرینیور شپ اِنشیٹیو ‘‘ سکیم نوجوان کاروباری اَفراد کی بالخصوص نوجوان خواتین کو مختلف اِداروں میں اختراعات کی طرف راغب کرنے کے لئے یوتھ اَنٹرپرائز و د انوویشن ( یو وِن) اور چمپئن فار انوویشن پروگرام کے تھیم پر مبنی ہے ۔اِسی طرح ’’ تیجسوینی ‘‘ سکیم کا مقصد نوجوان خواتین میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینا ہے ۔ اِس میں نوجوان خواتین کو ان کی مہارت ، تربیت ، اہلیت اور مقامی حالات کے مطابق فائدہ مند خو د روزگار منصوبے قائم کرنے کے لئے 5لاکھ روپے تک کی مالی اِمداد دینے کا تصور کیا گیا ہے ۔ایک اور پروگرام ’’ سہیتا ‘‘ شروع کیا گیا ہے جو مصیبت میں گھرے نوجوانوں کے لئے خصوصی مالی اِمداد کا پروگرام فراہم کرتا ہے ۔ اِس سکیم کے تحت پریشان حال نوجوانوں کو فائدہ مند خود روزگار یونٹس قائم کرنے کے لئے 2لاکھ روپے کی مالی اِمداد فراہم کی جارہی ہے۔ڈینٹل پیشہ ور اَفراد کے لئے مخصوص شعبے کی سکیم کے تحت ڈینٹل کلینک کے قیا م کے لئے ڈینٹل ڈاکٹروں کو اَپنی مرضی کے مطابق مالی مدد فراہم کی جارہی ہے ۔ اِس سکیم کے تحت ان کے وینچر کو قائم کرنے کے لئے 8 لاکھ روپے کی رقم بطور مالی اِمداد فراہم کی جاتی ہے۔ایک او رسکیم ’’ رائز ٹو گیدر‘‘ ہمالیہ خطے میں نئے دور کے نوجوان کاروباریوں میں ملازمتوں ، آمدنی او رسماجی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے کمیونٹی پر مبنی کاروباری شخصیت کو بہتر طریقے سے فروغ دینے کا تصور کرتی ہے ۔ سکیم کے تحت اہل نوجوانوں کے گروپوں کو 20 لاکھ روپے کی مالی اِمداد فراہم کی جاتی ہے جس میں کم سے کم 2.5 لاکھ روپے یا پروجیکٹ لاگت کا 10 فیصد اور بینک کی طرف سے فراہم کردہ قرض، 70 فیصد منصوبے کی لاگت 17.50لاکھ روپے ہے۔حکومت نے ہنر مند اَفرادی قوت کی طلب اور جموںوکشمیر میں پیشہ ور اَفراد اور تکنیکی مہارت کی نشو و نما کے لئے ایک مضبوط ماحول پیدا کرنے کے لئے جیسی ممتاز آرگنائزیشنوںکو جیسے کہ آئی سی آئی سی آئی فائونڈیشن ، ٹاٹا ٹیکنالوجیز لمٹیڈ ، پرائمل فائونڈیشن ، وپرو ، بینکنگ اور مالیاتی خدمات ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، میڈیا مینجمنٹ وغیرہ جیسے اعلیٰ روزگار کی صلاحیت رکھنے والے شعبوں میں نوجوانوں کی سکل کو اَپ گریڈ کرنے پر کام کرنے کے لئے شامل کیا گیا ہے۔