سری نگر//وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج، امدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کپواڑہ ضلع کے لولاب حلقے میں زراعت اوراس سے منسلک سرگرمیوں، آبپاشی، میکانائزیشن، فصل کٹائی کے بعد کے انتظام اور مارکیٹ سے رابطے کو مضبوط بنانے کے لئے سکیموں اور اَقدامات کا ایک جامع پیکیج عملا رہی ہے۔وزیرموصوف رُکن اسمبلی قیصر جمشید لون کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوںنے کہا کہ لولاب ضلع کپواڑہ کا ایک اہم زرعی علاقہ ہے جہاں زراعت اور باغبانی کے باغات تقریباً 9,134 ہیکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اِس میں سے 4,320.44 ہیکٹر (47 فیصد) آبپاشی شدہ ہے جبکہ 4,813.6 ہیکٹر (53 فیصد) غیر آبپاشی شدہ ہے۔اِس کے علاوہ تقریباً 1,213 ہیکٹر کاشت کے قابل نہیں ہے۔وزیر نے کہا کہ حکومت نے اس علاقے میں ایک وقف فیلڈ سطح کا محکمانہ ڈھانچہ قائم کیا ہے جس میں سوگام میں سب ڈویژنل ایگری کلچر آفس بھی شامل ہے تاکہ زرعی سکیموں کی مؤثر عمل آوری اور کسانوں کو توسیعی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔اُنہوںنے کہا کہ محکمہ زراعت لولاب میں مختلف مرکزی سیکٹر، مرکزی معاونت والی اور یوٹی گورنمنٹ سکیمیں عملا رہا ہے جن میں بالخصوص ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی)‘، جے اینڈ کے جامع سرمایہ کاری منصوبہ (جے کے سی آئی پی)، پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی)، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی)، بیج گاؤں پروگرام، فارم میکانائزیشن، محفوظ کاشتکاری، قدرتی کاشتکاری اور متعلقہ شعبے کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔جاوید احمد ڈار نے ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈی پی)‘ کے اثرات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کسانوں، سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور منتظمین پر مشتمل ایک باہمی تعاون پر مبنی نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی، اِختراع، تنوع اور قدر میں اضافے کے ذریعے زرعی شعبے میں تبدیلی لانا ہے۔اُنہوں نے ایوان کومطلع کیاکہ اگست 2026 تک لولاب میں ایچ اے ڈی پی/کیپکس کے تحت تقریباً 4,226 یونٹس منظور اور قائم کئے جا چکے تھے جن کے لئے تقریباً 269.88 لاکھ روپے کی مالی اِمداد فراہم کی گئی۔ سب ڈویژن میں 28 فعال کسان خدمت گھر (کے کے جیز) اور 28 کرشی ادیمی (کے یوز) بھی ہیںجو کسانوں کو مقامی سطح پر مدد اور خدمات فراہم کرتے ہیں۔وزیر موصوف نے جے کے سی آئی پی کے بارے میں کہا کہ یہ منصوبہ پیداوار، قدر میں اِضافے اور اعلیٰ قدر کی اجناس کی مارکیٹنگ پر مشتمل ویلیو چین کے نقطہ نظر کے ذریعے فارمنگ آپریشنز کی مسابقت اور موسمیاتی لچک کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ 2025-26 کے دوران سوگام بلاک میں 127 جے کے سی آئی پی یونٹس قائم کئے گئے جن کے لئے تقریباً 15.75 لاکھ روپے کی مالی اِمداد فراہم کی گئی۔اُنہوں نے اسمبلی کو مزید بتایا کہ پی ایم۔کسان کے تحت 1,867 مستفیدین کو 33.62 لاکھ روپے فراہم کئے گئے جبکہ مرکزی معاونت والی سکیموں (سی ایس ایس) کے تحت 422 مستفیدین کو 37.44 لاکھ روپے دئیے گئے ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ ایم آئی ڈِی ایچ اور باغبانی سکیموں کے تحت اَقدامات بھی باغ کی ترقی، معیاری پودے لگانے کے مواد، محفوظ کاشتکاری اور فصل کٹائی کے بعد کے اِنتظام کے لئے اِستعمال کئے جا رہے ہیںجبکہ متعلقہ شعبے کی سکیمیں ڈیری، بھیڑ اور بکری پالنے، پولٹری، مکھی پالن، مشروم کی کاشت اور ماہی گیری کو اِضافی آمدنی کے ذرائع کے طور پر فروغ دے رہی ہیں۔اُنہوںنے آبپاشی اور بنیادی ڈھانچے کے بارے میں کہا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ کیپکس، نبارڈ، ایس اے سی ایس، پی ایم سی، ایچ اے ڈی پی، ایم آئی ڈی ایچ اور جے کے سی آئی پی سمیت جاری سکیموں اور پروگراموں کے ہم آہنگی کے ذریعے لولاب میں آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے، درجہ بندی، چھانٹنے، پیکیجنگ، پروسسنگ اور دیگر فصل کٹائی کے بعد کی سہولیات کو مضبوط بنایا جائے جو کہ سکیم کی ہدایات اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہے۔وزیر نے کہا کہ آبپاشی بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور بحالی، ڈرپ اور سپرنکلر آبپاشی کے فروغ، پانی کے تحفظ اور دستیاب آبی وسائل کے مؤثر اِستعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ فارم اور باغبانی کی پیداوار کے جمع کرنے، قدر میں اضافے، فصل کٹائی کے بعد کے انتظام اور بہتر مارکیٹنگ میں سہولیت کے لئے ایف پی اوز اور مارکیٹ سے رابطے کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔اُنہوں نے کسانوں کے روزگار اور معیارِ زِندگی کو بہتر بنانے پر حکومت کی توجہ پر زرو دیتے ہوئے کہا کہ پیداواریت بڑھانے، کاشتکاری اور فصل کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم کرنے، مارکیٹ تک رَسائی بہتر بنانے اور زرعی آمدنی بڑھانے کے لئے زراعت، باغبانی اور متعلقہ شعبے کی سکیموں کی ہم آہنگی اپنائی جا رہی ہے۔










