ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

جموں و کشمیر کی صورتحال پرمرکزی وزارت داخلہ اورسیکورٹی ایجنسیوںکی گہری نظر

سیکورٹی گرڈکومضبوط بنانے اورسیکورٹی فورسز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنیکے اقدامات

سری نگر//مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پر گہری اور مسلسل نگرانی رکھی جارہی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کو روکنے کیلئے کثیر الجہتی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے سالانہ رپورٹ2020-21میں جموں وکشمیرکی مجموعی صورتحال کااحاطہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سرحدپار کی حمایت یافتہ ملی ٹنسی اورسرحدپار سے ہونے والی دراندازی کاآپس میں گہرا تعلق ہے ۔سالانہ رپورٹ میں سال2014سے2020تک ہوئے پُرتشدد واقعات ،ہلاکتوں اوردراندازی کی کوششوں کاذکر کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ سیکورٹی ایجنسیوںکی مشترکہ کوششوں سے جموں وکشمیر کے اندر اب ملی ٹنسی اورعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوںمیں کافی کمی آئی ہے جبکہ سرحدپار سے ہونے والی جنگجوئوں کی دراندازی کی روکتھام کیلئے بھی فوج اوردیگر سلامتی دستوںنے کارگر اقدامات روبہ عمل لائے ہیں ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے، مرکزی حکومت نے سیکورٹی سے متعلق اخراجات (پولیس) اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کو9120.69 کروڑ روپے فراہم کئے ہیں۔ سالانہ رپورٹ2020-21میں مزیدکہاگیاہے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پر حکومت، فوج، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ نگرانی کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاکہمرکزی وزارت داخلہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں اور وزارت دفاع کے ساتھ مل کر سیکورٹی کی صورت حال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کرتی ہے۔ سالانہ رپورٹ2020-21 میں مزید کہا گیا کہ سرحد پار سے دراندازی پر قابو پانے کے لیے ایک کثیر الجہتی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس میں بین الاقوامی سرحد کیساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے ساتھ ملٹی ٹائرڈ تعیناتی، سرحد پر باڑ لگانا، بہتر انٹیلی جنس، آپریشنل کوآرڈینیشن، نیزدراندازوں کے خلاف کارروائی کیلئیسیکورٹی فورسز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا اور فعال اقدامات شامل ہیں ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میں5 انڈین ریزرو پولیس بٹالین، 2 سرحدی بٹالین اور 2 خواتین بٹالین بنانے کی منظوری دی ہے جبکہ5آئی آر بٹالین کے لئے بھرتی پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔