Severe anemia among children in Jammu and Kashmir is a concern

جموں و کشمیر میں بچوں میں خون کی شدید کمی تشویشنا

پانچ سال سے کم عمر کے 72 فیصد سے زائد بچے خون میں کمی کا شکار

سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر میں پانچ سال سے کم عمر کے 72 فیصد سے زائد بچے خون کی کمی (اینیمیا) کا شکار ہیں، جو ملک میں اس مسئلے کی بلند ترین شرحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت نے اس رجحان کو ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے بچوں کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور دماغی ارتقا پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کی رپورٹ ’’چلڈرن اِن انڈیا 2025‘‘ کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 72.7 فیصد بچے اینیمیا میں مبتلا ہیں، جن میں 73.9 فیصد لڑکے اور 71.4 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں یہ شرح 73.5 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 70.1 فیصد درج کی گئی ہے۔ماہرینِ طب کے مطابق اینیمیا ایسی حالت ہے جس میں خون میں صحت مند سرخ خلیات یا ہیموگلوبن کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی۔ اس سے بچوں میں تھکن، کمزور قوتِ مدافعت، نشوونما میں رکاوٹ، دماغی ارتقا میں کمی، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی اور انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر شبینہ شاہ کے مطابق اینیمیا کی سب سے عام وجہ غذائی کمی، بالخصوص آئرن کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تیز رفتار نشوونما کے لیے آئرن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، مگر اکثر بچوں کی خوراک میں آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 جیسے ضروری غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق آئرن ڈیفیشنسی اینیمیا بچوں میں اینیمیا کی سب سے بڑی وجہ ہے۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر شاہ نے مزید کہا کہ ایسی خوراک جو صرف اناج پر مشتمل ہو اور اس میں سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، انڈے، گوشت یا فورٹیفائیڈ غذائیں شامل نہ ہوں، اینیمیا کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جن ماؤں میں خود اینیمیا ہوتا ہے، ان کے بچوں میں بھی خون کی کمی کا خطرہ زیادہ رہتا ہے کیونکہ حمل اور ابتدائی زندگی کے دوران بچے کو مناسب مقدار میں آئرن نہیں مل پاتا۔ایک اور ماہر ڈاکٹر شوکت حسین نے کہا کہ چھ ماہ کی عمر کے بعد صرف ماں کا دودھ بچے کی آئرن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ اگر اس مرحلے پر مناسب اور آئرن سے بھرپور اضافی غذا شروع نہ کی جائے تو اینیمیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹ کے کیڑے اور دیگر انفیکشنز بھی خون کے ضیاع اور غذائی اجزا کے جذب میں رکاوٹ بن کر اینیمیا میں اضافہ کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق اگرچہ تلی ہوئی یا جنک فوڈ براہِ راست اینیمیا کا سبب نہیں بنتی، مگر یہ بالواسطہ طور پر نقصان دہ ہے کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور کھانوں کی جگہ لے لیتی ہے اور بچوں کو صرف خالی کیلوریز فراہم کرتی ہے۔ماہرین صحت نے زور دیا کہ چھ ماہ کے بعد بچوں کو آئرن سے بھرپور غذائیں جیسے گوشت، انڈے، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں اور لوبیا دی جائیں، جبکہ آئرن کے بہتر جذب کے لیے وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں جیسے مالٹے اور ٹماٹر کا استعمال بھی ضروری ہے۔ انہوں نے پیک شدہ اسنیکس اور تلی ہوئی اشیا سے پرہیز کا مشورہ دیا۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ حکومت کی اسکیمیں جیسے ’’اینیمیا مکت بھارت‘‘ اور ’’مشن پوشن 2.0‘‘** کے تحت بچوں اور ماؤں کو آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہفتہ وار آئرن سپلیمنٹیشن، فورٹیفائیڈ غذاؤں کا استعمال، باقاعدہ ڈی ورمنگ اور حفاظتی ٹیکہ کاری اینیمیا کی شرح کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔