سرکاری اسپتالوں میں بھی شرح 48 فیصد،لال دید اسپتال میں 71 فیصد آپریشنل ڈیلیوریز
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں زچگی کے طریقہ کار سے متعلق تازہ ترین قومی خاندانی صحت سروینے ایک تشویشناک رجحان کو واضح کیا ہے، جس کے مطابق خطے میں مجموعی طور پر 51 فیصد سے زائد زچگیاں سیزیرین سیکشن کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ یہ شرح قومی اوسط 27.2 فیصد سے تقریباً دوگنا ہے، جس نے صحت کے نظام اور کلینیکل فیصلہ سازی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 93.6 فیصد زچگیاں ادارہ جاتی طور پر اسپتالوں اور طبی مراکز میں ہو رہی ہیں، جو قومی اوسط 90.6 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان میں سے ایک بڑا حصہ سرکاری اسپتالوں میں ہوتا ہے، جہاں تقریباً 80 فیصد سے زائد خواتین زچگی کیلئے سرکاری صحت مراکز کا رخ کرتی ہیں۔ تاہم تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ادارہ جاتی زچگیوں کے باوجود سیزیرین کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں بھی تقریباً 48.6 فیصد زچگیاں سی،سیکشن کے ذریعے ہو رہی ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ رجحان صرف نجی شعبے تک محدود نہیں بلکہ پبلک ہیلتھ سسٹم میں بھی گہرائی اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر ملک بھر میں سیزیرین ڈیلیوریز کی زیادہ شرح نجی اسپتالوں میں دیکھی جاتی ہے، جہاں مالی محرکات کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے، لیکن جموں و کشمیر میں سرکاری شعبے میں بلند شرح اس رجحان کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔وادی کے سب سے بڑے زچہ و بچہ اسپتال لدھیڈ اسپتال کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران اسپتال میں 20,520 زچگیاں ریکارڈ ہوئیں، جن میں 14,507 سیزیرین اور 6,013 نارمل ڈیلیوریز تھیں۔ اس طرح تقریباً 71 فیصد زچگیاں آپریشن کے ذریعے انجام دی گئیں، جو قومی اور عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔اگرچہ یہ اسپتال ایک ٹرشری ریفرل سنٹر ہے جہاں زیادہ تر پیچیدہ اور ہائی رسک کیسز بھیجے جاتے ہیں، تاہم اس کے باوجود بلند شرح ماہرین کیلئے تشویش کا باعث ہے اور صحت پالیسی کے مزید جائزے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔یو این ایس کے مطابق قومی شماریاتی دفتر کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں زچگی کے اخراجات بھی نسبتاً زیادہ ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں اوسط خرچ 3,867 روپے جبکہ نجی اسپتالوں میں یہ 42,746 روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو کم آمدنی والے خاندانوں پر اضافی مالی دباؤ ڈالتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی خطے میں سیزیرین ڈیلیوری کی شرح 10 سے 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جبکہ اس سے زیادہ شرح غیر ضروری طبی مداخلت کی نشاندہی کرتی ہے۔ جموں و کشمیر میں موجودہ شرح اس معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ غیر ضروری سیزیرین آپریشنز نہ صرف فوری طبی پیچیدگیوں جیسے انفیکشن، خون بہنے اور اینستھیزیا کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مستقبل کی زچگیوں کو بھی زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ مسلسل سی،سیکشن کے باعث اگلی حملوں میں خطرات بڑھ جاتے ہیں اور صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔صحت ماہرین کے مطابق اس رجحان کو کنٹرول کرنے کیلئے کلینیکل گائیڈ لائنز کو سخت بنانے، ریفرل سسٹم کو بہتر کرنے اور اسپتالوں میں نگرانی کے مؤثر نظام کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیزیرین صرف طبی ضرورت کے تحت ہی کیا جائے۔










