جموں و کشمیر حکومت شہریوں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کررہی ہے

جے کے آئی جی آر اے ایم ایس پر 1,38,959شکایات موصول ہوئیں اور نمٹانے کی شرح 52 فیصد سے بڑھ کر 97فیصد ہوگئی

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت شمولیاتی حکمرانی اور پالیسی سازی کے فروغ کے لئے شہریوں اور حکومت کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کر رہی ہے۔جموں و کشمیر اِنتظامیہ نچلی سطح پر جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے جس میں ترقیاتی عمل میں عوام کی شرکت کی حوصلہ افزائی،بہترحکمرانی کے اصولوںکو عملانا، سب کو جامع معیاری تعلیم فراہم کرنا، تمام عوامی خدمات کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی خاطر آسانی سے قابل رسائی بنانے کے علاوہ نوجوانوں کے لئے روزی روٹی کے مزید مواقع پیدا کرناشامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا ’عوام کی آواز‘ پہل جموں و کشمیر میں شہریوں کی شکایات اور مسائل کو دور کرنے ،عوامی فلاح و بہبود کے لئے لوگوں سے تجاویز اور خیالات حاصل کرنے کے لئے ایک نیا اقدام ہے۔دورانِ پروگرام لیفٹیننٹ گورنر نے اِنتظامیہ کہ طرف سے اُٹھائے گئے ترقی پسند اِقدامات پر بھی روشنی ڈالی ۔ ایل اِنتظامیہ پالیسیوں کا مسودہ تیار کرنے کی حکمت عملی تیار کرتی ہے جو عوام کی آواز پر موصول ہونے والے اُمنگوں کی عکاسی کرتی ہےلیفٹیننٹ گورنرنے کہاکہ ہم جو کچھ بھی تخلیق کر رہے ہیں، ہمیں خود وقار، عزت نفس اور خوشحالی سے بھرے معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھنی چاہیے۔ جموںوکشمیر یوٹی حکومت نے اس سمت میں کام کرتے ہوئے گزشتہ 16 مہینوں میں ایک نیا شفاف، جواب دہ، عوام پر مبنی حکومتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو بااِختیار بنانے کے لئے فعال پروگراموںسے کوششیں کی گئی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے عوام کے ساتھ ایک اِنٹرفیس بنانے اور جموںوکشمیر یوٹی میں گورننس کے مسائل پر توجہ دینے کے لئے مربوط شکایتی ازالے اور نگرانی نظام ( جے کے آئی جی آر اے ایم ایس) بھی شروع کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے لانچ کرنے کے بعد کہا،’’ یہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ جے کے۔ جی آر اے ایم ایس ایک مؤثر شکایتی ازالہ طریقہ کار ہوگا جو کسی بھی گڈ گورننس سسٹم کی زندگی اور خون ہے۔‘‘سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2020 ء سے اَب تک 1,38,959 شکایات درج کی گئی ہیں اور انہیں مرکزی حکومت کے سی پی آئی جی آر اے ایم ایس کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔ایک آفیسر نے کہا ،’’تخفیف کی مجموعی شرح فیصد97 ہے۔ اکتوبر 2020 ء میں’ ایل جیز ملاقات‘ پروگرام کے آغاز کے بعد سے شکایات کو نمٹانے کی شرح 52فیصد سے بڑھ کر 97فیصد ہو گئی ہے۔ اَب تک 11 ملاقات پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں جن میں ایل جی کی جانب سے 226 معاملات کی سماعت کی گئی اور 157 معاملات نمٹائے گئے جبکہ باقی حل کے اعلیٰ درجے کے مراحل میں ہیں۔‘‘یہ بات قابل ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر شکایتی نظام کو مرکزی شکایتی پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔ اِس طرح یہ ہندوستان کا پہلا یوٹی ہے جس کے ضلعی سطح کے شکایتی دفاتر سی پی جی آر اے ایم ایس ( مرکزی عوامی شکایتی ازالے اور نگرانی نظام) کے مرکزی حکومت کے پورٹل کے ساتھ مربوط ہیں۔جموں و کشمیر میں گورننس میکانزم کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش میں، مرکزی وزارت عملہ میں انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے (ڈی اے آر پی جی)نے آن لائن شکایتی ازالے کے لئے شکایات پورٹل کی توسیع اور قیام کے لئے جموں و کشمیریوٹی حکومت کے ساتھ تعاون کیا۔ جموں و کشمیر۔مربوط شکایتی ازالے اور نگرانی نظام (جے کے آئی جی آر اے ایم ایس)جموں وکشمیر یوٹی میں ضلعی سطح کے دفاتر اور مرکزی پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے بی 2 وی پرگرام کے تین مراحل کا آغاز کیا۔ بی 2وی کا مرحلہ اوّل لوگوں کی شکایات اور مطالبات کو سمجھنے کے لئے ایک تعارفی اور استفساری پروگرام تھاجبکہ مرحلہ دوم پنچایتوں کو اِختیارات کی منتقلی پر توجہ مرکوز کیاور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ پنچایتیں کیسے کام کر رہی ہیں اور شکایات اور مطالبات کیا ہے ۔مرحلہ سوم کو شکایتی ازالے کے لئے فارمیٹ پر ڈیزائن کیا گیاہے۔بی 2وِی کے تین ستون عوامی شکایتی ازالہ ( جن سنوائی ) ، عوامی خدمت کی فراہمی ( ادھیکار ابھیان) اور گرام پنچایتی سطح پر ترقی کی فراہمی ( انات گرام ابھیان ) تھے ۔گرام پنچایتوں میںزائد اَز 12,000 سینئر افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔بی 2وِی کے اِس منفرد اقدام سے زائد اَز 20,000 ترقیاتی کاموں کی لوگوں نے براہِ راست نشاندہی کی ، 7,000 شناخت شدہ کاموں کو پہلے ہی انجام دیا جا رہا ہے، نوجوان کاروباریوں کے لئے 407 کروڑ روپے کی منظوری سے 19,645 قرض کے معاملات تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق عوام کی شکایات کو باقاعدگی سے سننے کے لئے بلاک اور سب ڈویژنل صدر مقامات پر ہر بدھ کو بلاک دیوس کا اِنعقاد کیا جاتا ہے۔