جوابدہ او رشفاف نچلی سطح کی حکمرانی پر زور
کپواڑہ//وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمدڈار نے آج کرال گنڈ کپواڑہ میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈِی سی) کی عمارت کا اِفتتاح کیا جو پنچایتی راج اِداروں کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی اِنتظامیہ کو لوگوں کے قریب لانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔دورے کے دوران وزیر موصوف کے ہمراہ ممبر قانون ساز اسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید احمد بھی تھے۔اِس موقعہ پراُنہوں نے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعمیر شدہ بی ڈِی سی عمارت محض ایک انتظامی بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ نچلی سطح کے جمہوری اِداروں کو بااِختیار بنانے اور جوابدہ، قابلِ رسائی اور عوام پر مبنی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے ایک اہم ادارہ جاتی میکانزم ہے۔97 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی یہ عمارت بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے کام کرنے کے لئے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اِس کے علاوہ علاقے کے لوگوں کو اَپنے ترقیاتی مسائل اور شکایات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے میں سہولیت حاصل ہوگی اور انہیں طویل فاصلے طے کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔جاوید ڈار نے کہا کہ پنچایتی راج اِداروں کو مضبوط بنانا حکومت کے ترقیاتی ویژن کا بنیادی حصہ ہے جس کے تحت مقامی کمیونٹیوں اور ان کے منتخب نمائندوں کو ترقیاتی ترجیحات کے تعین، ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی اور ان کی عمل آوری کی نگرانی میں اہم رول حاصل ہوگا۔اُنہوںنے کہاکہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے کہ حکومت جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کی طرف سے عملائی جارہی فلاحی و ترقیاتی سکیموں کے فوائد مستحق اَفراد تک بروقت، شفاف اور بغیر کسی رُکاوٹ کے پہنچیں۔وزیر موصوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جوابدہی اور شفافیت حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی بالخصوص نچلی سطح پر ترقیاتی کاموں کی تکمیل میں بنیادی ترجیحات رہیں گی۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ عوامی وسائل کا مناسب استعمال، منظور شدہ اصولوں اور معیار کی پابندی، کاموں کی بروقت تکمیل اور منصوبوں کی عمل آوری کے ہر مرحلے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوںنے کہا، ’’عوامی پیسے کا ہر روپیہ ٹھوس ترقی اور عوامی فائدے میں تبدیل ہونا چاہیے۔‘‘ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اِداروں کو عوام کے سامنے قابل رَسائی اور جوابدہ رہنا چاہیے۔جاوید ڈار نے کہا کہ حکومت حقیقی عوامی مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے واضح عزم رکھتی ہے جبکہ دیگر ترقیاتی ضروریات کو ان کی فوری نوعیت، فزیبلٹی اور وسائل کی دستیابی کے مطابق مرحلہ وار اور منظم طریقے سے پورا کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ تمام خطوں اور علاقوں کی مساوی ترقی حکومت کی بنیادی تر جیح ہے جس میں دیہی، دُور دراز اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دِی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ منتخب نمائندوں اور مقامی کمیونٹیوں کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی عوام کی حقیقی ضروریات کے عین مطابق ہو۔وزیر موصوف نے جاری منصوبوں کے معیار، کارکردگی اور خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ فیلڈ دوروں، مؤثر شکایات کے ازالے مؤثر طریقہ کار اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔رُکن اسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید احمد نے اپنے خطاب میں کپواڑہ ضلع میں ترقی کے وسیع امکانات بالخصوص زراعت، باغبانی اور دیہی ترقی کے شعبوں کو اُجاگر کیا ۔ اُنہوں نے ضلع کی اِقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے، دیہی معاش کو مضبوط کرنے اور مقامی آبادی کے لئے روزگار و آمدنی کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے ان شعبوں میں توجہ مرکوز کرنے اور مستقل سرمایہ کاری پر زور دیا۔اُنہوں نے کرال گنڈ میں بی ڈِی سی عمارت کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مضبوط پنچایتی راج اِدارے شراکتی اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر رورل ڈیولپمنٹ کشمیر، اِیڈیشنل ڈِپٹی کمشنر کپواڑہ، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ ہندواڑہ، متعلقہ محکموں کے دیگر سینئر اَفسران اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔










