بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارہ ’بی بی سی‘ کی دستاویزی فلم ریلیز ہونے کے بعد بھارت میں ہنگامہ برپا ہوگیا، بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر فلم پر تبصرہ کرنے والی ٹوئٹس اور مواد کو بلاک کرنے کی ہدایات کردیں۔مانیٹرنگ کے مطابق دو قسطوں پر مبنی ’انڈیا: دی مودی کویسچن‘ نامی دستاویزی فلم کا پہلا حصہ 17 جنوری کو بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا جبکہ دوسری قسط 24 جنوری کو نشر کی جائے گی۔فلم کی پہلی قسط میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے عروج، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ تعلقات اور سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے دوران ان کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے۔خیال رہے کہ 2002 میں اس وقت نریندر مودی بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔یاد رہے کہ گجرات میں جب فسادات پھوٹ پڑے، ان فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جب کہ مارے جانے والے زیادہ افراد مسلمان تھے۔یہ فسادات اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب ہندو زائرین کو لے جانے والی ٹرین میں آگ لگنے سے 59 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔دستاویزی فلم کے مطابق ’مغرب نریندر مودی کو ایشیا میں چینی تسلط کے خلاف دفاع کے طور پر دیکھتا ہے، انھیں امریکا اور برطانیہ دونوں اہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم نریندر مودی کی حکومت پر الزامات لگتے رہے ہیں اور اس کی وجہ بھارت کی مسلم آبادی سے متعلق اس کا رویہ ہے۔‘دستاویزی فلم میں ان الزامات کی حقیقت پر تحقیقات کی گئی ہے۔دستاویزی فلم میں برطانوی صحافی کو دیا گیا غیر معمولی انٹرویو بھی شامل ہے جسے بعد میں مودی کو طاقتور، خطرناک قرار دیا گیا۔اس کے علاوہ دستاویزی فلم میں دیکھا گیا کہ صحافی کی جانب سے بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت سے متعلق سوال پر نریندر مودی نے عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اسی جھوٹا پروپگینڈا قرار دے دیا۔اگرچہ دستاویزی فلم کا بڑا حصہ محفوظ شدہ (آرکائیو) فوٹیج اور مودی کی اپنی ویڈیو پر مبنی ہے تو دوسری جانب اس میں گجرات فسادات کی خفیہ برطانوی تحقیقات کے بارے میں چونکا دینے والا انکشاف بھی شامل ہے۔برطانوی دفتر خارجہ کی جانب بی بی سی کو حاصل ہونے والی غیر شائع شدہ رپورٹ میں 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2002 میں گجرات میں پُرتشدد ماحول پیدا کیا گیا اور مودی اس کے ’براہ راست قصور وار‘ تھے۔دستاویزی فلم برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے تحقیقات میں نتائج کے حوالے سے بات کی، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس حوالے سے میں بہت پریشان تھا، میں اس میں بہت زیادہ ذاتی دلچسپی لے رہا تھا کیونکہ بھارت ہمارے لیے بہت اہم ملک ہے جس کے ہمارے ساتھ تعلقات ہیں، ہمیں اسے بہت محتاط طریقے سے تحقیقات کرنی تھیں‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے اس پر تحقیقات کا آغاز کیا اور ایک ٹیم تشکیل دی جسے گجرات روانہ ہونا تھا اور وہاں خود جاکر اصل حقائق کو معلوم کرنا تھا، جس کے بعد ہماری ٹیم نے تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی جو انتہائی حیران کن تھیں۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں وزیر اعلیٰ مودی کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ دعوے کیے گئے تھے اور یہ باتیں سامنے آئی تھیں کہ پولیس کو پیچھے رکھا گیا جبکہ ہندو انتہا پسندوں کو اُکسایا گیا۔’انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اداروں میں سیاست ملوث ہونے کی نمایاں مثال تھی جہاں پولیس کو اپنا کام کرنے سے روکا گیا جس کا اصل مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کی حفاظت کرنا ہے، ہمارے پاس محدود راستے تھے، ہم کبھی بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ نہیں سکتے تھے لیکن یہ مودی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ رہا۔
بھارت کا ردعمل
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں یہ فلم پروگینڈا پر مبنی ہے، متعصب اور نوآبادیاتی ذہنیت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، فلم کو مزید اہمیت دینے کے لیے ہم اس پر مزید جواب نہیں دینا چاہتے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات نے سوشل معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ کو بی بی سی کی دستاویزی فلم پر پابندی عائد کرنے کا کہنا ہے۔بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر سے برطانوی قومی نشرکار کی جانب سے دستاویزی فلم پر 50 ٹوئٹس ہٹانے کی درخواست کی ہے۔مودی کے حمایتی برطانوی شہری اور بھارتیا جنتا پارٹی (پی جے پی) کا حامی میڈیا دستاویزی فلم پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’مودی مخالف بیانیہ‘ کیوں پیش کیا جارہا ہے؟نریندر مودی اور بی جے پی پر تنقید کرنے والے صحافیوں نے کہا کہ دستاویزی فلم میں کئی انکشافات سامنے آئے اور مودی حکومت کی جانب سے ٹوئٹس اور یوٹیوب ویڈیو کو بلاک (ہٹانا) کرنا بھارت کے لیے اچھا نہیں ہے۔
برطانوی وزیراعظم وزیر اعظم رشی سونک کا ردعمل
دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین نے جب گجرات میں ہونے والے فسادات جس میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور نریندر مودی کے کردار کے حوالے سے سوال کو برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے نظرانداز کردیا۔رشی سوناک نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک برطانوی حکومت کا مؤقف واضح رہا ہے اور یہ آج بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ہم دنیا میں کہیں بھی ظلم کو برداشت نہیں کرتے۔ تاہم میں معزز ایم پی کی جانب سے کی گئی بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔’










