وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے زیر سایہ چلنے والی بھارتی ریاست میں ایک نیا قانونی بل پیش کر دیا گیا جس میں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ بیٹوں اور بیٹیوں کو وراثت میں مساوی حقوق کی تجویز پیش کی گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شمالی بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں پیش کردہ اس مجوزہ بل کی بنیاد پر اب قوی امکان ہے کہ مزید ان ریاستوں میں بھی ایسے بل پیش کیے جائیں گے جہاں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت ہے کیونکہ بھارتی حکومت ایک عرصے سے اس طرح کے قوانین متعارف کرانے کے وعدے کرتی آ رہی ہے۔اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اسمبلی میں بل پیش کرنے سے پہلے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ آئین ہمیں مساوات اور ہم آہنگی کی ترغیب دیتا ہے اور یونیفارم سول کوڈ قانون کا اطلاق اس سلسلے میں ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔اس نظرثانی شدہ بل میں لڑکیوں کے لیے شادی کی قانونی عمر بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، اس کے علاوہ طلاق اور آبائی جائیداد میں حصہ داری سے متعلق معاملات پر مردوں اور عورتوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور گود لیے گئے بچوں کو مکمل حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔اتراکھنڈ میں اس بل پر کام کرنے والے ایک قانونی ماہر نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں اکثریتی ہندو برادری میں لڑکیوں کی عمر 18 سال ہونے کے ساتھ ہی ان کی شادیاں کردی جاتی ہے لیکن اسلامی قوانین میں نابالغ لڑکیوں کی شادی پر پابندی نہیں ہے۔اس بل میں شامل نئی دفعات سے کچھ قبائلی برادریوں کو استثنی دیا گیا ہے اور اس بل کی باآسانی منظوری کا امکان ہے کیونکہ بی جے پی کو ریاستی اسمبلی میں بڑی اکثریت حاصل ہے۔فی الحال، ہندوستان کے ہندو، مسلمان، عیسائی اور بڑی قبائلی آبادی شادی، طلاق، بچے گود لینے اور وراثت کی تقسیم کے حوالے سے اپنے ذاتی قوانین اور رسم و رواج و روایات پر عمل کرتے ہیں۔بھارتیا جنتا پارٹی نے اس حوالے سے اپنی انتخابی مہم کے دوران مشترکہ قومی قانون بنانے کا وعدہ کیا ہے اور لگاتار دو مرتبہ انتخابات میں کامیابی کے بعد اب مسلسل تیسری مدت کے لیے بھی مودی اور ان کی پارٹی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق مودی اس بار گزشتہ دو بار سے بھی زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔تاہم 20 کروڑ سے زائد مسلمان آبادی کے حامل اس ملک میں رہنے والے مسلمان اس نئے بل کو اسلامی قوانین اور مذہبی روایات کے ساتھ ساتھ متعدد شادیوں کے لیے بھی خطرہ سمجھتے ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے کہا کہ مودی کی حکومت متنوع طریقوں کا خاتمہ چاہتی ہے اور یہ بل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اکثریتی ایجنڈا مسلط کر رہے ہیں۔










