وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں 80 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر قومی پرچم لہرایا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں 80 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر قومی پرچم لہرایا

کہا،جموں و کشمیر کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور اس کے مستقبل کیلئے قربانی دینے والوں کے خوابوں کو پورا کریں گے

سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر کے بخشی سٹیڈیم میں 80ویں یومِ آزادی کی تقریب کے موقعے پر قومی پرچم لہرایا اور پریڈ اور مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔اُنہوںنے اپنی تقریر کا آغاز مشہور حب الوطنی کے شعر ’’سارے جہاں سے اچھا، ہندوستان ہمارا،ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا‘‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ لوگوں کی اپنے ملک کے ساتھ محبت، فخر اور جذباتی وابستگی کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یومِ آزادی اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ جن لوگوں نے عظیم قربانیاں دے کر ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، کیا وہ خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر ہوا ہے اور اگر نہیں تو مزید کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’آج خوشی کا دِن ہے، یاد کا دن ہے اور شکرگزاری کا دن ہے‘‘اور ملک کی آزادی کے لئے اَپنی جانیں قربان کرنے والے تمام لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زیادہ ترقی، امن، بھائی چارے اور خوشحالی سے بھرپور ہندوستان کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت کا عزم ترقی، خوشحالی اور پیش رفت کے لحاظ سے ایک مضبوط جموں و کشمیر تعمیر کرنا اور اسے اگلی سطح پر لے جانا ہے جبکہ اس کی ریاست کا درجہ اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لئے بھی کام جاری رکھنا ہے۔وزیراعلیٰ نے بخشی سٹیڈیم میں 80ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی، خدمت اور ان کے لئے کام جاری رکھے گی اورخطے کی آزادی اور مستقبل کے لئے اَپنی جانیں قربان کرنے والوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔اُنہوںنے کہا، ’’ہم آپ کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔ ہم آپ کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہم جموں و کشمیر کو اس مقام تک پہنچانے کے لئے اَپنا کام جاری رکھیں گے۔‘‘ اُنہوں نے لوگوںکو یقین دِلایا کہ حکومت ان کی اُمنگوں کو حقیقت بنانے کے لئے کام کرے گی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کی آئینی ضمانتوں کی بحالی، ریاستی حیثیت واپس حاصل کرنے اور ترقی و پیش رفت کے ایک نئے دور کے آغاز کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’چاہے جموں و کشمیر کو دوبارہ اس مقام تک لے جانا ہو، جموں و کشمیر کی آئینی ضمانتیں بحال کرنا ہوں، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت دوبارہ حاصل کرنا ہو، یا جموں و کشمیر میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہو،آپ کی حکومت ان تمام باتوں کے لئے نہ صرف ایک وعدہ ہے بلکہ آپ کی حکومت انہیں حقیقت میں بدل کر دکھائے گی۔‘‘وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر گاؤں کا ہر نوجوان اُمید کی ایک کرن دیکھ سکے اور اسے محسوس ہو کہ جموں و کشمیر غیر یقینی صورتحال سے نکل کر ایک بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ترقی، خوشحالی اور روزگار کے مواقع محض الفاظ سے حاصل نہیں کئے جا سکتے اور اصل امتحان وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنے میں ہے۔عمر عبداللہ نے آزادی کے 80 برسوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ موقعہ نہ صرف جشن کا بلکہ یاد، شکرگزاری اور اس ہندوستان کے بارے میں خود شناسی کا بھی ہے جس کا خواب اس کی آزادی کے لئے سب سے بڑی قربانی دینے والوں نے دیکھا تھا۔اُنہوں نے واضح کیا کہ جمہوریت اور وفاقیت ملک کی دو سب سے بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں کو محفوظ، مضبوط اور گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ہمارا ملک ریاستوں کا اتحاد ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لئے ریاستوں کو مضبوط کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان کے آئینی اختیارات اور ذمہ داریوں کا احترام کیا جائے۔اُنہوںنے کہا کہ جب ریاستوں کے اِختیارات کم کئے جاتے ہیں یا مرکزی ادارے ان معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جو ریاستوں کے دائرۃ اختیار میں آتے ہیں تو وفاقی نظام کمزور ہوتا ہے۔ اُنہوں نے تعلیم اور صحت کو ایسی مثالوں کے طور پر پیش کیا جہاں روایتی طور پر ریاستوں کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اِداروں کے لئے قومی سطح کے امتحانات جائز ہیں، تاہم ریاستی اداروں کو اپنے امتحانات اور داخلوں کا انعقاد خود کرنے کا حق برقرار رہنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے مرکز میں بھرتی اور داخلہ کے عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی نظام پر اعتماد ختم ہونے میں صرف چند لمحے لگتے ہیںلیکن اسے دوبارہ قائم کرنے میں برسوں کی مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں، چاہے داخلہ ہو، بھرتی ہو یا کوئی اور عمل، وہ شفاف، میرٹ پر مبنی اور منصفانہ ہونا چاہیے تاکہ جو لوگ واقعی ملازمت یا سیٹ کے حقدار ہیں، انہیں ان کا جائز موقع مل سکے۔‘‘ عمر عبداللہ نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدأکو خراجِ عقیدت پیش کیا اور 1947 میں قبائلی حملہ آوروں اور دراندازوں کے خلاف لڑنے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں کو یاد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد اس وقت کی گئی جب ہندوستانی فوج ابھی خطے میں نہیں پہنچی تھی۔اُنہوں نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو یاد کرتے ہوئے جنہیں انہوں نے جموں و کشمیر کا سب سے قدآور رہنما اور ’’بابائے قوم‘‘ قرار دیا، کہا کہ یومِ آزادی پر موقعے پرجموں و کشمیر کے عوام کی خطے کے دفاع کے لئے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعلیٰ نے لائن آف کنٹرول کے پار موجود صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج وہاں کے حالات کو دیکھنے سے ان کے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ 80 سال قبل جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے جو فیصلہ کیا تھا وہ درست فیصلہ تھا۔اُنہوں نے ان بہادر لوگوں کی قربانیوں کو یاد کیا جنہوں نے ’’ہوشیار، خبردار؛ ہم کشمیری ہیں، تیار‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور قبائلی حملے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے عظیم قربانیاں دیں۔

وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر ماسٹر عبدالعزیز کو یاد کیا، جو نیشنل کانفرنس کے رہنما تھے اور قبائلی حملے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مظفرآباد میں شہید ہوئے۔اُنہوں نے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حصے کی صورتحال کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں رہنے والے لوگ ہمارے لئے اجنبی نہیں بلکہ اسی سرزمین اور جموں و کشمیر کے عوام کا حصہ ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ہم ان لوگوں کو اَپنا سمجھتے ہیں، اجنبی نہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی آج بھی ان کے لئے نشستیں خالی رکھتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن اس حصے کے عوام خود ان نشستوں پر بیٹھ جائے۔اُنہوںنے کہا کہ آٹھ دہائیاں قبل جموں و کشمیر کے لوگوں کی قربانیاں آج بھی اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی اُمنگوں کو امن، ترقی، جمہوریت اور انصاف کے ذریعے پورا کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے حکومت اور عوام کے درمیان مسلسل رابطے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانی صرف اسی وقت بامعنی ہو سکتی ہے جب حکومت عوام کی امنگوں اور توقعات سے جڑی رہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام کرے، اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت سے سوال کرے اور جوابدہ بنائے جبکہ میڈیا کا دونوں سے سوال کرنے میں اہم کردار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت تقریباً پچھلے دو برسوںسے جموں و کشمیر کی بہتری، ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ حکومت آپ کی حکومت ہے۔ یہ آپ کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ جموں و کشمیر کی بہتری اور ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ جموں و کشمیر کی خوشحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔‘‘اُنہوںنے اپنی حکومت کی سرکاری تقریر اور کامیابیوں کی فہرست پڑھنے کے بجائے کہا کہ اسے پڑھا ہوا تصور کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر کے اختتام پر عوام کو یومِ آزادی کی مُبارک باد دی اور اُمید ظاہر کی کہ ملک کے آئندہ 80 برس گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھی زیادہ شاندار ہوں گے اور ان میں مزید ترقی، بھائی چارہ، امن اور خوشحالی دیکھنے کو ملے گی۔انہوں نے کہا، ’’جے ہند۔ جے جموں و کشمیر۔‘‘وزیر اعلیٰ نے پریڈ کا بھی معائینہ کیا اور جموں و کشمیر پولیس، سیکورٹی فورسز، سکولی طلبأ کے علاوہ جموں و کشمیر پولیس کے براس اینڈ پائپ بینڈ اور سکول کے طلبأپر مشتمل دستوں کے مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔تقریب کے دوران جموں و کشمیر کے متنوع اور مالا مال ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے والے متعدد ثقافتی پروگرام بھی پیش کئے گئے جنہیں مہمانِ خصوصی اور حاضرین نے بھرپور داد دی۔تقریب میں سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، قانون ساز اسمبلی کے متعدد ارکان، جموں و کشمیر کی سول اور پولیس اِنتظامیہ کے سینئر افسران اور بڑی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی۔وزیرِ اعلیٰ نے عوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افسران اور ملازمین کو بھی اعزازات سے نوازا۔اُنہوں نے طالب علموں، پولیس اہلکاروں، نیم فوجی دستوں، جموں و کشمیر سپورٹس کونسل اور ثقافتی اکیڈمی سے وابستہ فنکاروں میں بھی ان کی کارکردگی پر انعامات تقسیم کئے۔