nayeem_ul_haq

بڈگام میں رنگ روڈ پر رابطہ سڑکوں کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج

رابطہ سڑکوں کی عدم شمولیت پر بڈگام کے عوام برہم، رنگ روڈ منصوبے پر سوالات اٹھنے لگے:خالد سبحان وانی

نعیم الحق

سرینگر//وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں گالندر سے منی گام گاندربل تک زیر تعمیر رنگ روڈ پر رابطہ سڑکوں کی عدم فراہمی کے خلاف مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ پارمپورہ، سوئیہ بگ روڈ پر جمع ہوئے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں کو دھرمنہ فراش گنڈ جنکشن کے ساتھ رابطہ سڑکوں کے ذریعے ملایا جائے۔مظاہرین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں صوبائی کمشنر کشمیر کی مداخلت بھی بے سود ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے دعویٰ کیا ہے کہ پانپور سے گاندربل تک زیر تعمیر نیم دائرے نما سڑک مقررہ وقت میں مکمل ہو جائے گی، تاہم اس پروجیکٹ کی تکمیل میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی ہیں۔احتجاج کرنے والے بڈگام کے شہریوں کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ وسطی ضلع کے اہم علاقوں واتھورہ، چاڑورہ، سویہ بگ، سونہ پاہ اور دیگر سے گزر کر نارہ بل پہنچتی ہے، جہاں سے یہ سمبل کی طرف جاتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پارمپورہ، سویہ بگ اور سونہ پاہ روڈ پر رابطہ سڑکوں کو دھرمنہ فراش گنڈ جنکشن کے ساتھ لازمی طور پر منسلک کیا جائے۔مظاہرین نے بتایا کہ ماضی میں انہوں نے اپنی شکایات صوبائی کمشنر کشمیر تک بھی پہنچائی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے مطالبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرمنہ فراش گنڈ جنکشن کا یہ اہم حصہ پارمپورہ، سونہ پاہ اور سویہ بگ روڈ سے گزرتا ہے اور ان رابطہ سڑکوں کی عدم موجودگی سے تحصیل نارہ بل، ماگام اور بیروہ کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔مقامی لوگوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پارمپورہ، سونہ پاہ اور سویہ بگ روڈ ان علاقوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سڑک جنوبی جانب سے ضلع بڈگام کے ہیڈکوارٹر کو ملاتی ہے، جبکہ شمالی جانب سے پارمپورہ، پانتھ چوک اور بائی پاس کے ذریعے فروٹ منڈی سرینگر کے قریب تک رسائی فراہم کرتی ہے۔بڈگام ضلع کے سویہ بگ، دھرمنہ، وارڈون، فراش گنڈ، غوطہ پورہ، رازوین اور نارہ بل کے باشندوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس وقت دھچکا لگا جب انہیں معلوم ہوا کہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) میں کسی بھی رابطہ سڑک کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ بھی علم ہوا ہے کہ ڈی پی آر میں’سب وے‘ کو رنگ روڈ پر اس سے اوپر والے جنکشن پر رکھا گیا ہے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ رابطہ سڑکوں کی عدم موجودگی رنگ روڈ پر روزانہ سفر کرنے والے عام لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو گی۔ انہوں نے خاص طور پر ملازمین، محنت کشوں اور تاجر پیشہ افراد کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔مقامی لوگوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دھرمنہ فرستہ گنڈ جنکشن پر دونوں اطراف سے موجودہ سڑک کے ساتھ فوری طور پر رابطہ سڑکوں کی تعمیر کی جائے تاکہ ایک بڑی آبادی کو اس مسئلے سے نجات مل سکے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع بڈگام میں زیر تعمیر نیم دائرے نما شاہراہ کے لیے 3 ہزار 661 کنال اراضی حاصل کی گئی ہے، جس سے تقریباً 6 ہزار 294 کسان متاثر ہوئے ہیں۔ اب رابطہ سڑکوں کی عدم فراہمی سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔