بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سرینگر میں احتجاج

بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سرینگر میں احتجاج

یکم ستمبر سے نئے نرخ نافذ ہوں گے، صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ

سرینگر/ / پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے پیر کے روز سرینگر میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے کرکے حال ہی میں منظور کئے گئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی مخالفت کی اور حکومت سے اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔یہ احتجاج جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) کی جانب سے جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کے صارفین کیلئے بجلی کے خوردہ نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کی منظوری کے بعد کیا گیا۔نئے نظرثانی شدہ بجلی نرخ یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے اور 31 مارچ 2027 تک لاگو رہیں گے۔پی ڈی پی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر کیا گیا، جہاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو بجلی نرخوں میں اضافے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار صارفین پر مزید بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی انتخابی مہم کے دوران مفت بجلی سے متعلق کئے گئے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھی حکومت سے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں نرخوں میں اضافہ کیوں کیا گیا۔دوسری جانب جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے سرینگر کے پریس انکلیو میں الگ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی رہنما محمد اشرف میر کی قیادت میں منعقدہ احتجاج میں کارکنوں نے نظرثانی شدہ بجلی نرخوں کے خلاف نعرے بلند کئے اور پلے کارڈز اٹھائے۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ’’عمر تیری سرکار میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے‘‘ جیسے نعرے بھی بلند کئے اور بجلی نرخوں میں اضافے پر شدید اعتراض ظاہر کیا۔دونوں سیاسی جماعتوں نے بجلی نرخوں میں اضافے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ صارفین پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے اور عام صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔