تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین کا سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

پی ایم پیکیج کے تحت وادی میں تعینات ملازمین کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل

سرینگر// آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے سوشل میڈیا پر ایک تازہ دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آنے کے بعد وادی کشمیر میں تعینات کشمیری پنڈت ملازمین کے لیے سکیورٹی انتظامات فوری طور پر مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔فورم نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری کو پیش کی گئی ایک یادداشت میں وزیراعظم پیکیج کے تحت وادی میں خدمات انجام دے رہے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔فورم کے مطابق 23 اگست کو سوشل میڈیا پر ’یونائیٹڈ لبریشن کونسل‘ (یو ایل سی) نامی تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیا گیا ایک دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آیا، جس میں پی ایم پیکیج ملازمین کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔فورم نے دعویٰ کیا کہ مبینہ پوسٹر میں بعض ملازمین کے نام، رہائشی پتے اور گاڑیوں کے نمبر سمیت حساس ذاتی معلومات بھی درج کی گئی ہیں۔ملازمین کی تنظیم نے کہا کہ پوسٹر کی صداقت کی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے، تاہم اس نوعیت کے دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر، بالخصوص حساس ذاتی معلومات کے ساتھ، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔فورم نے بتایا کہ معاملہ تصدیق اور ضروری کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے نوٹس میں لایا گیا ہے۔ماضی میں وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کے بار بار سامنے آنے سے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔فورم نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وادی کے مختلف علاقوں میں تعینات پی ایم پیکیج ملازمین کو مناسب اور اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے اور تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کی فوری اور مکمل جانچ کی جائے۔اس کے علاوہ ملازمین کے کام کرنے کی جگہوں، رہائشی مقامات اور ان کے آمدورفت کے راستوں پر موجود سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔فورم نے ان ملازمین کے لیے فوری حفاظتی اقدامات اور ضروری سکیورٹی ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی جن کے نام، پتے یا گاڑیوں کی تفصیلات مبینہ طور پر دھمکی آمیز مواد میں شامل کی گئی ہیں۔آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے امید ظاہر کی کہ حکومت تازہ سکیورٹی جائزے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے گی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔دریں اثنا، سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے مبینہ دھمکی کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں ماہ یہ دوسرا موقع ہے جب وادی میں مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین نے مبینہ طور پر کسی ملی ٹنٹ گروپ کی جانب سے دھمکی ملنے کی بات کہی ہے۔ اس سے قبل سامنے آنے والی مبینہ دھمکی کے بعد ملازمین کو 20 اگست تک گھر سے کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا، تاہم حکومت نے بعد میں واضح کیا تھا کہ پنڈت ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔اس وقت تقریباً 6 ہزار کشمیری پنڈت ملازمین پی ایم پیکیج کے تحت وادی کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو مخصوص ٹرانزٹ کالونیوں میں رہائش فراہم کی گئی ہے اور انہیں سکیورٹی کور بھی حاصل ہے۔