اے سی بی، کرائم برانچ کی جانب سے درج مقدمات والے اہلکاروں پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے شروع کی گئی 100 روزہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم کے بعد اب جموں و کشمیر میں ’رشوت مکت جے کے‘ یعنی ‘رشوت سے پاک جموں وکشمیر‘ کے نام سے اسی طرز کی 100 روزہ خصوصی مہم شروع کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔تاجروں، طلبہ، ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں اور عام شہریوں سمیت مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں نے منشیات کے خلاف انتظامیہ کی کارروائیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر میں رشوت ستانی اور بدعنوانی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے خلاف اسی عزم اور ترجیح کے ساتھ کارروائی کی ضرورت ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی جانب سے متعدد سرکاری ملازمین کو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جن میں پٹواری، جونیئر انجینئر، تحصیلدار اور دیگر افسران شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کرائم برانچ اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے بھی سرکاری کام کے عوض رقم طلب کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملات میں کئی ملازمین کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔سرینگر کے ایک شہری بشیر احمد نے کہا کہ جس طرح ’نشہ مکت‘ مہم کے دوران پولیس، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود سمیت مختلف محکموں نے مل کر کام کیا، اسی طرز پر رشوت ستانی کے خلاف بھی جامع مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہری کو آمدنی کا سرٹیفکیٹ، فرد، تعمیراتی اجازت نامہ یا کوئی معمولی سرکاری دستاویز حاصل کرنے کے لیے اگر رشوت دینی پڑے تو یہ نظام پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کے ایک گروپ نے مطالبہ کیا کہ ’رشوت مکت جے کے‘ مہم کے دوران ان تمام سرکاری اہلکاروں کی نشاندہی کی جائے جن کے خلاف اے سی بی، کرائم برانچ یا دیگر اداروں نے مقدمات درج کیے ہیں۔ ان کے مقدمات اور محکمانہ تحقیقات کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور سرکاری دفاتر میں جوابدہی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے۔سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے تجویز دی کہ 100 روزہ مہم کے دوران سرکاری خدمات کی زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل فراہمی، شکایات کے فوری ازالے، خفیہ اطلاع دینے والوں کے تحفظ، اچانک معائنوں اور دفاتر میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سرکاری دفتر میں شکایتی سہولت اور واضح رابطہ نمبر موجود ہونا چاہیے تاکہ شہری بلاخوف اپنی شکایات درج کرا سکیں۔انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی ای۔اْنّت پورٹل کے تحت آن لائن خدمات، آٹو اپیل نظام اور انسداد بدعنوانی بیورو کو مزید مؤثر بنانے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے حوالے سے عوامی تاثر میں تبدیلی لانے کے لیے مزید سخت اور نتیجہ خیز اقدامات ضروری ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم کی طرز پر ’رشوت مکت جے کے‘ مہم شروع کرکے سرکاری نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات ایک نسل کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ بدعنوانی کا اثر پوری معاشرتی اور انتظامی زندگی پر پڑتا ہے۔لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ جموں و کشمیر میں رشوت ستانی کے خلاف 100 روزہ خصوصی مہم کا اعلان کیا جائے اور اس دوران بدعنوانی کے مقدمات، محکمانہ تحقیقات اور عوامی شکایات کے ازالے پر خصوصی توجہ دی جائے










