جموںوکشمیر بھر میں اینمل برتھ کنٹرول اقدامات کا جائزہ لیا
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک مرکوز، مربوط اور انسانی ہمدردی پر مبنی حکمت عملی اِختیار کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں اور سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کو ہدایت دی کہ اس مسئلے کو اوّلین ترجیح دیں اور ٹھوس نتائج کے حصول کے لئے کام کریں۔اُنہوں نے اس مسئلے پر منعقدہ جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ سری نگر کے باشندوں کے لئے سب سے اہم عملی مسائل میں سے ایک بن کر ابھرا ہے جو شہر اور اس کے آس پاس شہریوں کی روزمرہ زِندگی اور احساسِ تحفظ کو متاثر ہو رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں میں نس بندی کی بہتر کوریج کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے میں جو پیش رفت ہوئی ہے، اسے وادیٔ کشمیرمیں بھی دہرانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایاکہ جموں میں نافذ کئے جانے والے نسبتاً بہتر اینمل برتھ کنٹرول پروگرام کو کشمیر میں مؤثر طریقے سے کیوں نافذ نہیں کیا جا سکا۔اُنہوں نے کہا، ’’ایک ہی خطے کے اندر ہمیں جموں میں تقریباً 80 فیصد نس بندی کی کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ سری نگرمیں اس کے مقابلے میںخاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اگر ہم نے جموں میںیہ ثابت کیا ہے کہ یہ کام کیا جاسکتا ہے تو ہمیں سری نگر میں بھی اسی کامیابی کو دہرانے کے قابل ہونا چاہیے۔‘‘عمر عبداللہ نے متعلقہ محکموں کی جانب سے صوبہ کشمیر میں ویٹرنری سرجنز، پیرا ویٹس اور دیگر معاون عملے کی ضروریات کا واضح جائزہ طلب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اس کام کو مستقل بنیادوں پر انجام دینے کے لئے درکار وسائل کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے مطلوبہ عملے کو فوری طور پر تعینات کرنے اور زمینی سطح پر فوری کارروائی کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ کوڑاکرکٹ کے ڈھیروں کو جلد از جلد ٹھکانے لگانے پر بھی زور دیا تاکہ کتے سڑکوں کے کنارے پڑے کھانے کے فضلے پر انحصار نہ کریں۔ اُنہوں نے ایس ایم سی اور جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) کو میونسپل حدود میں کوڑاکرکٹ کو بروقت ٹھکانے لگانے کی ہدایت دی جسے عوام ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے آوارہ کتوں کے مسئلے میں اضافہ ہوتا ہے اور شہروں کے آلودہ ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ اِس مسئلے کومشن موڈ میں حل کرنے کے لئے ایس ایم سی کے اندر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے ۔ اِس کے تحت تربیت یافتہ ڈاگ کیچرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ، کتوں کی نس بندی کے آپریشنز کو بڑھانے اور ویٹرنری ڈاکٹروں و تربیت یافتہ عملے کی دستیابی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے اِس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ انسان دوست اور مقررہ ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ آوارہ کتوں کی آبادی کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھنے اور شہریوں کے خدشات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔اُنہوں نے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت و طبی تعلیم، ایس ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مزید بہتر تال میل پر زور دیا تاکہ اَپنائے گئے اقدامات زمینی سطح پر قابلِ پیمائش بہتری کا باعث بنیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا مقصد نہ صرف سری نگر بلکہ پورے جموں و کشمیر میں آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک دیرپااور مؤثر نظام وضع ہوناچاہیے۔میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیرِ اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ مندیپ کور، کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ایم راجو، کمشنر سیکرٹری تعلیم، صوبائی کمشنر کشمیر،صوبائی کمشنر جموں، انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون، کمشنر سری نگر میونسپل کارپوریشن، کمشنر جموں میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔جموں میں مقیم اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔










