رامسر سائٹس کو نظر انداز کرنے پرنوٹس، حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کیلئے تین ہفتے کی مہلت
سرینگر/ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے ستمبر 2025 میں ارسال کردہ مراسلے کا اب تک جواب کیوں نہیں دیا گیا اور تین ویٹ لینڈ ریزروز کیلئے الگ الگ مربوط انتظامی منصوبے دوبارہ کیوں پیش نہیں کئے گئے۔عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ مربوط انتظامی منصوبوں کی تیاری اور انہیں مرکزی وزارت کو ارسال کرنے کے دوران جموں و کشمیر کی دیگر رامسر سائٹس کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے 17 اگست 2026 کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کیں۔ عدالت پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن نمبر 345/2006، کشمیر انوائرنمنٹل پروٹیکشن بنام ریاست جموں و کشمیر، جسے پی آئی ایل نمبر 11/2017 کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، کی سماعت کر رہی تھی۔عدالت کی یہ ہدایات مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے داخل کئے گئے ایک حلف نامے کے بعد سامنے آئیں، جو عدالت کے 7 جولائی 2026 کے سابقہ حکم کی تعمیل میں پیش کیا گیا تھا۔حلف نامے کے مطابق مرکزی وزارت کو 25 اگست 2025 کو جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ایک مراسلہ موصول ہوا تھا، جس میں مرکزی معاونت والی اسکیم ’’نیشنل پلان آف کنزرویشن آف ایکواٹک ایکو سسٹم‘‘ کے تحت سال 2025-26 سے 2029-30 کی مدت کیلئے تیار کئے گئے مربوط انتظامی منصوبوں سے متعلق تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ان تجاویز میں تین ویٹ لینڈ ریزروز کیلئے انتظامی اور مالی منظوری طلب کی گئی تھی۔ تاہم، مرکزی وزارت نے ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ یہ نیشنل پلان آف کنزرویشن آف ایکواٹک ایکو سسٹم کے رہنما خطوط کے مطابق نہیں ہیں۔اس کے بعد مرکزی وزارت نے 10 ستمبر 2025 کو جموں و کشمیر حکومت کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ہدایت دی کہ 2024 کے رہنما خطوط کے مطابق ہر ویٹ لینڈ کیلئے الگ مربوط انتظامی منصوبہ تیار کرکے پیش کیا جائے۔ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر حکومت نے مذکورہ مراسلے کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔مرکزی وزارت نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نیشنل پلان آف کنزرویشن آف ایکواٹک ایکو سسٹم اسکیم کی اصل مدت 31 مارچ 2026 تک تھی، تاہم بعد میں اسے عبوری طور پر 30 ستمبر 2026 تک توسیع دی گئی۔ اس اسکیم کو اگلے مالیاتی مرحلے 2026-31 تک جاری رکھنے کی تجویز اس وقت متعلقہ حکام کے زیر غور ہے۔مرکزی وزارت کے حلف نامے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈویڑن بنچ نے قرار دیا کہ اس معاملے میں جموں و کشمیر حکومت کا جواب ضروری ہے۔عدالت نے ہدایت دی کہ حکومت حلف نامہ داخل کرتے ہوئے واضح طور پر بتائے کہ 10 ستمبر 2025 کے مراسلے کا اب تک جواب کیوں نہیں دیا گیا اور تینوں ویٹ لینڈ ریزروز کیلئے الگ الگ مربوط انتظامی منصوبے مرکزی وزارت کو دوبارہ کیوں ارسال نہیں کئے گئے۔عدالت نے مزید ہدایت دی کہ حلف نامے میں اس بات کی بھی وضاحت کی جائے کہ جموں و کشمیر کے دیگر رامسر سائٹس کو منصوبوں کی تیاری اور انہیں مرکزی وزارت کو پیش کرنے کے دوران کیوں نظر انداز کیا گیا۔جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے معاون وکیل مہا مجید نے ضروری حلف نامہ داخل کرنے کیلئے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے حکومت کو تین ہفتوں کا وقت دے دیا۔معاملے کی آئندہ سماعت 21 ستمبر 2026 کو پی آئی ایل نمبر 11/2017 کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔یہ کارروائی ایک طویل عرصے سے جاری عوامی مفاد کی عرضی ’’کشمیر انوائرنمنٹل پروٹیکشن بذریعہ ندیم قادری ایڈووکیٹ بنام ریاست جموں و کشمیر‘‘ سے متعلق ہے۔ ندیم قادری درخواست گزار کے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں عدالتی معاون کے طور پر بھی پیش ہو رہے ہیں۔جواب دہندگان کی جانب سے ڈپٹی سالیسٹر جنرل آف انڈیا ٹی ایم شمسی، ایڈووکیٹ ریحانہ کے ہمراہ پیش ہوئے، جبکہ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے مہا مجید نے سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محسن قادری کی جگہ معاون وکیل کے طور پر عدالت میں نمائندگی کی۔عدالت نے رجسٹرار جوڈیشل، سرینگر کو یہ بھی ہدایت دی کہ عدالتی معاون اور درخواست گزار کے وکیل ندیم قادری کے حق میں 25 ہزار روپے جاری کئے جائیں۔حکم نامے پر جسٹس محمد یوسف وانی اور قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار کے دستخط ہیں۔عدالت کی تازہ ہدایات کے بعد جموں و کشمیر حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہو گئی ہے کہ وہ مرکزی وزارت کو جواب دینے میں تاخیر، تین ویٹ لینڈ ریزروز کے مربوط انتظامی منصوبوں کو 2024 کے رہنما خطوط کے مطابق دوبارہ تیار کرکے پیش نہ کرنے اور دیگر رامسر سائٹس کو اس عمل میں شامل نہ کرنے کی وجوہات واضح کرے۔










