لیفٹیننٹ گورنر نے آرمی چیف اور آرمی کمانڈر، ناردرن کمانڈ کے ساتھ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

ایل جی سرکار نے مزید 2سرکاری ملازمین کو برطرف کیا

’’دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ‘‘مبینہ ملوث ہونے کا الزام

سرینگر//جموںکشمیرمیں ملی ٹنٹ گروپوں کے ساتھ مبینہ وابستگی اور ہمدردی کی پاداش میں ایل جی انتظامیہ نے مزید 2سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کرلیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر ’’دہشت گردی ‘‘کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے دو سرکاری ملازمین کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں برطرف کرنے کا حکم دیا۔برطرف کیے گئے دو ملازمین کی شناخت سینئر اسسٹنٹ اشتیاق احمد ملک اور اسسٹنٹ وائرلیس آپریٹر بشارت احمد میر کے نام سے ہوئی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دونوں مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جن سے قومی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق تھا۔حکام نے کہا کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی یونین کے زیر انتظام علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی لیفٹیننٹ گورنر کی سرکار نے ا ب تک درجنوں سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کرلیا ہے جن پر الزام لگایاگیا تھا کہ وہ جموں کشمیر میں ’’ملٹنسی ‘‘ کی کارروائیوں میں یا تو براہ راست ملوث رہے ہیں یا انہوںنے دہشت گردوں کی معاونت کی ہے ۔ اس طرح سے محکمہ ، ہیلتھ محکمہ ایجوکیشن اور دیگر محکموں میں کام کرنے والے متعدد ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے ۔