انگریزوں نے ہندوستان سے ’استعماری دور‘ میں 64,820ارب ڈالر لوٹا

نصف دولت 10فیصد امیروں کو ملی، تحقیق میں انکشاف

برطانیہ نے 1765سے 1900کے درمیان اپنے استعماری دور میں ہندوستان سے64,820ارب امریکی ڈالر لوٹے تھے۔ لوٹی گئی رقم میں سے 33،800 ارب ڈالر ملک کے سب سے امیر 10 فیصد لوگوں کے پاس گئے۔ مذکورہ معلومات ’آکسفیم انٹرنیشنل‘ کی تازہ ترین اہم عالمی عدم مساوات کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ ورلڈ اکنامک فارم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس سے کچھ گھنٹے قبل پیر (20جنوری) کے روز ’ٹیکرس، ناٹ میکرس‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ جاری کی گئی۔ اس میں کئی مطالعوں اور تحقیقی مقالوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’جدید ملٹی نیشنل کارپوریشن صرف استعمار کا نتیجہ ہیں۔‘‘
آکسفیم انٹرنیشنل نے کہا کہ ’’تاریخی استعماری دور میں پائی جانے والی عدم مساوات اور لوٹ مار کی بگاڑ، جدید زندگی کو تشکیل دے رہی ہیں۔ اس نے ایک انتہائی غیر مساوی دنیا بنائی ہے، ایک ایسی دنیا جو نسل پرستی پر مبنی تقسیم سے دو چار ہے، ایک ایسی دنیا جو گلوبل ساؤتھ سے منظم طور پر دولت نکالتی رہتی ہے، جس کا فائدہ بنیادی طور پر گلوبل نارتھ کے سب سے امیر لوگوں کو ملتا ہے۔‘‘ علاوہ ازیں آکسفیم انٹرنیشنل کے مطابق اگر لندن کے سطحی علاقے کو 50برطانوی پاؤنڈ کے نوٹوں سے ڈھکا جائے تو مذکورہ رقم ان نوٹوں سے 4 گنا زیادہ قیمت کی ہیں۔ آکسفیم انٹرنیشنل نے 1765سے 1900کے درمیان 100سالوں سے زائد استعماری دور کے دوران برطانیہ کے ذریعہ ہندوستان سے نکالی گئی دولت کے بارے میں کہا کہ ’’سب سے امیر لوگوں کے علاوہ استعمار کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا نیا ابھرتا ہوا متوسط طبقہ تھا۔‘‘ استعمار کے اثرات کو آکسفیم انٹرنیشنل نے ’زہریلے درخت کا پھل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی صرف 0.14فیصد مادری زبانوں کو ہی ذریعۂ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اور 0.35 فیصد زبانوں کو ہی اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ آکسفیم انٹرنیشنل کے مطابق تاریخی استعماری دور کے دوران ذات، مذہب، جنس، زبان اور جغرافیہ سمیت کئی دیگر تقسیموں کو پھیلایا گیا اور استحصال کیا گیا۔ انہیں ٹھوس شکل دی گئی اور پیچیدہ بنایا گیا۔