ہزاروں اَفراد نے ایک ساتھ مارچ کرتے ہوئے منشیات کی لت اور نارکو دہشت گردی کے خاتمے کا واضح پیغام دیا۔لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سری نگر میں کہا،’’منشیات کے خلاف جنگ میں ہر قدم اہمیت رکھتا ہے۔ ہر کوشش قابلِ قدر ہے۔ ہر تعاون ہمیں فتح کے قریب لاتا ہے۔ آئیے مل کر ایک ایسے جموں و کشمیر کا تصور کریں جہاں کوئی بچہ منشیات کا شکار نہ ہو، کوئی کنبہ نشے سے ٹوٹ نہ جائے، کوئی معاشرہ سمگلروں کے زیر اثر نہ ہو اور ہر شہری صحت اور طاقت میں ترقی کرے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’یہی وہ خواب ہے جسے ہم پورا کرنا چاہتے ہیں، یہی وہ وراثت ہے جو ہم آنے والی نسلوں کو دینے کے مقروض ہیں۔ یہ جموں و کشمیر کی تقدیر کا سوال ہے، اس معاشرے کا جسے ہم بنانا چاہتے ہیں، ان اقدار کا جنہیں ہم تھامے رکھتے ہیں اور ان زندگیوں کا جنہیں ہم محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ آج ہم عہد کریں کہ جب تک جموں و کشمیر مکمل طور پر منشیات سے پاک نہیں ہو جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر ٹی آر سی فٹ بال گراؤنڈ سری نگر میں منشیات کے استعمال اور نشہ آور دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی مہم کے آغاز کے موقعہ پر خطاب کر رہے تھے۔ اُنہوں نے دو کلومیٹر طویل پد یاتراکی قیادت بھی کی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اَفراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف جدوجہد میں بھرپور حصہ لیں۔اُنہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ ہمارے گھروں میں بھی لڑی جا رہی ہے اور آج ہم نے جو عہد کیا ہے وہ محض ایک ذاتی عہد نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ہر اُس ماں کی پکار ہے جس نے اَپنے بچے کو نشے کی لت میں مبتلا ہوتے دیکھا ہے اور ہر اُس باپ کا عزم ہے جس نے اپنے خوابوں کو منشیات کے بوجھ تلے دفن ہوتے دیکھا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ یہ ہر اُس استاد کا بھی عہد ہے جس نے صلاحیت اور ہنر کو ماند پڑتے دیکھا۔ منشیات کے خاتمے کا عزم صرف اِنتظامیہ کا اعلان نہیں بلکہ یہ لوگوںکا اِجتماعی فیصلہ ہے جو دہائیوں کی تکلیف برداشت کرنے کے بعد اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور کہہ رہے رہے ہیں،بس ،اب بہت ہوچکا ہے ۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ عوام کی فعال شرکت ایک مضبوط قوت ہے جو نشہ آور دہشت گردی کے ذریعے دشمن کے حملوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔ منشیاد کے سمگلروں اور ان کے نیٹ ورکس ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ معاشرے کی مداخلت انتہائی اہم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں بزرگوں، مذہبی رہنماؤں اور اساتذہ کو شامل کرنا ہوگا تاکہ وہ نوجوانوں کو صحیح رہ دکھا سکیں۔ ان کی نگرانی جانیں بچا سکتی ہے اور نشے کے خلاف طاقتور ہتھیار کے طور پر کام کر سکتی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میں نوجوانوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ منشیات ‘کول’ نہیں بلکہ ایسی زنجیریں ہیں جو آپ کی آزادی چھین لیتی ہیں۔ آپ کی توانائی کھیل کے میدانوں، ہنر کی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لئے ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک جو دُنیا میں دہشت گردی کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، ہمارے نوجوانوں کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے لئے منشیات پھیلا رہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ منشیات سے حاصل ہونے والا پیسہ دہشت گردی اور اِنتہا پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم تین محاذوں پر’ سپلائی چین کا خاتمہ، نچلی سطح پر بیداری پیدا کرنا اور نشے کے عادی اَفراد کی باوقار بحالی ‘کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ یہ اندرونی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ دہشت گرد اور منشیات سمگلر دونوں اتحاد کو توڑنے، سا لمیت کو کمزور کرنے اور امن کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیںجبکہ نوجوانوں کی طاقت کو ختم کر کے جموں و کشمیر کے مستقبل کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم نے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، نشے کے عادی اَفراد کی بحالی، پولیس کی تربیت، بیداری مہم اور عوامی شمولیت کے لئے 360 ڈگری حکمت عملی اَپنائی ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ایک نئے ایس او پی کے تحت سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ 11 ؍اپریل سے 2 ؍مئی کے درمیان جموں و کشمیر میں صرف 21 دنوں میں 481 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس دوران 518 منشیات سمگلروں کو جیل بھیجا گیا جبکہ جرائم سے حاصل 24 مکانات مسمار کئے گئے اور کروڑوں کی جائیداد ضبط کی گئی۔ کشمیر میں ان میں سے 26 کارروائیاں ہوئیں۔ اِس کے علاوہ زائد اَز 300 ڈرائیونگ لائسنسوں کی منسوخی کی سفارش کی گئی ہے۔پورے خطے میں 325 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تقریباً 3,000 اَدویات کی دُکانوںکا معائینہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 107 لائسنس معطل کئے گئے اور ایک ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس اور سول اِنتظامیہ لوگوںکے تعاون سے ’منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس‘پالیسی پر سختی سے عمل کر رہے ہیں تاکہ سپلائی چین کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔‘‘اُنہوں نے نشہ آور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کوسخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی سرزمین پر ڈرگ سنڈیکیٹس اور ملک دشمن عناصر کا وقت ختم ہوچکا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہماری ایجنسیاں، ہماری اِنتظامیہ اور ہمارے لوگ متحد ہیں تاکہ ہر سمگلنگ نیٹ ورک اور منشیات فروش کو ختم کیا جا سکے۔ ہم منشیات کے کارٹلز کے مالیاتی راستوں کا سراغ لگا رہے ہیں۔ ہرلنک توڑی جائے گی، ہر طریقہ کار ختم کیا جائے گا۔ میں عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہر سمگلر کو بے نقاب کیا جائے گا، ہر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے گی اور جموں کشمیر کے اندر یا باہر جس نے بھی منشیات کے نیٹ ورک کی مدد کی ہے ،اسے قانون کی پوری طاقت سے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘










