منتخب فہرستوں میں شامل امیدواروں کی تقرری کی اجازت دے دی گئیمنتخب فہرستوں میں شامل امیدواروں کی تقرری کی اجازت دے دی گئی
سرینگر/ یو این ایس / سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں رہبرِ تعلیم (ReT) اسکیم کے تحت منتخب فہرستوں میں شامل امیدواروں کی تقرری کی اجازت دے دی ہے، اور قرار دیا ہے کہ اسکیم کی بندش کو ماضی سے لاگو کرتے ہوئے انہیں تقرری سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایسے امیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کیے جائیں، بشرطیکہ وہ کم از کم تعلیمی اہلیت، بشمول ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) پاس کرنا، تین سال اور تین کوششوں کے اندر حاصل کریں۔جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل بنچ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے مکمل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تقرری کے منتظر امیدواروں اور تعلیم کے حق کے قانون کے تحت کم از کم تدریسی معیار برقرار رکھنے کی قانونی شرط کے درمیان توازن قائم کیا۔تقرری کی اجازت دیتے ہوئے عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی تعلیمی اہلیت کے تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ چنانچہ عدالت نے ہدایت دی کہ اسکیم کے تحت مقرر کیے جانے والے امیدوار نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اہلیت، بشمول ٹی ای ٹی پاس کرنا، تقرری کی تاریخ سے تین سال اور تین مواقع کے اندر حاصل کریں۔واضح رہے کہ رہبر تعلیم اسکیم کا آغاز سال 2000 میں دور دراز اور محروم علاقوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ مقامی افراد کو ابتدائی تعلیم فراہم کرنے کے لیے شامل کیا جا سکے۔ اس اسکیم کو 16 نومبر 2018 کو باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا، اور حکومت نے ساتھ ہی ان تمام اشتہارات اور منتخب فہرستوں کو بھی منسوخ کر دیا جہاں ابھی تک تقرری کے احکامات جاری نہیں ہوئے تھے۔متعدد امیدواروں نے اس بندش کے حکم کو چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ منتخب فہرست میں شامل ہونا انہیں تقرری کا حق دیتا ہے۔ ہائی کورٹ نے بندش کے حکم کو برقرار رکھا، تاہم کچھ محدود استثنات فراہم کیے۔ بعد ازاں ریاست اور متاثرہ امیدوار دونوں سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ اسکیم بند ہونے کے وقت مقدمہ زیر التوا تھا، امیدواروں کی امیدواری مسترد نہیں کی جا سکتی۔’’کسی امیدوار کے خلاف مقدمہ زیر التوا ہونا ایک غیر متعلقہ امر ہے اور کسی بھی طرح اسے اس قسم کی درجہ بندی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا’‘‘۔عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا وہ امیدوار جن کے نام منظور شدہ منتخب فہرستوں میں شامل تھے لیکن عدالت کے حکم امتناعی یا زیر التوا مقدمات کی وجہ سے انہیں تقرری نہیں ملی، اسکیم کی بندش کے بعد تقرری سے محروم کیے جا سکتے ہیں۔ریاست کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایسے امیدواروں کو ان حالات کی سزا نہیں دی جا سکتی جو ان کے اختیار سے باہر تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقدمات کا زیر التوا ہونا بندش کے حکم کے مقصد سے کوئی منطقی تعلق نہیں رکھتا، جس کا مقصد جعلی اسناد اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ تھا۔ریاست کی درجہ بندی کو من مانا قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بندش کا حکم آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس میں ایک ہی طرح کی صورتحال رکھنے والے امیدواروں کے درمیان غیر منطقی فرق کیا گیا، اور صرف اس بنیاد پر امتیاز برتا گیا کہ کچھ کے خلاف مقدمات زیر التوا تھے۔عدالت نے پایا کہ بندش کے حکم کا مقصد، جیسا کہ ریاست/انتظامیہ نے اپنے اضافی حلف نامے مورخہ 23.02.2026 کے پیراگراف 3 میں بیان کیا ہے، جعلی مارک شیٹس، فرضی ڈگریوں اور جعلی دستاویزات کے مسئلے کو ختم کرنا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی معیار میں گراوٹ آئی تھی۔ اس مقصد کے پیش نظر، یہ درجہ بندی کہ (i) وہ امیدوار جن کے خلاف بندش کے حکم کی تاریخ تک کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں تھا اور انہیں تقرری دی گئی اور (ii) وہ امیدوار جن کے خلاف اسی تاریخ پر مقدمہ زیر التوا تھا اور انہیں تقرری سے محروم رکھا گیا، اس مقصد سے کسی بھی طرح کا منطقی تعلق نہیں رکھتی۔آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عدالت نے ایک جامع ریلیف فریم ورک تشکیل دیا، جس کے تحت ریاست کو ہدایت دی گئی کہ وہ 8 ہفتوں کے اندر تمام اہل امیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کرے، اور مقرر کیے جانے والے امیدوار تین سال اور زیادہ سے زیادہ تین مواقع کے اندر ٹی ای ٹی پاس کریں۔اسکے علاوہ ریاست کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر سال ٹی ای ٹی کا انعقاد کرے تاکہ امیدوار اس شرط کو پورا کر سکیں۔ اس کے بعد اگر امیدوار ٹی ای ٹی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی سنیارٹی تقرری کی تاریخ کے بجائے اصل منتخب فہرست میں اس کی پوزیشن کے مطابق ہوگی۔عدالت نے واضح کیا کہ جو امیدوار مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ اہلیت حاصل نہیں کر پائیں گے، ان کی خدمات ختم کی جا سکتی ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 21A کے تحت معیاری تعلیم فراہم کرنے کے تقاضے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ اس کے احکامات ان تمام امیدواروں پر لاگو ہوں گے جو اسی نوعیت کی صورتحال میں ہیں اور متعلقہ اشتہارات کے تحت آتے ہیں، چاہے وہ اس مقدمے کا حصہ نہ بھی رہے ہوں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کو رہبرتعلیم اسکیم کی بحالی کے طور پر نہ سمجھا جائے اور نہ ہی ایسے افراد کے لیے کوئی حق پیدا ہوتا ہے جو منتخب فہرست کا حصہ نہیں تھے یا جنہوں نے بروقت عدالت سے رجوع نہیں کیا۔یہ ہدایات اس کیس کے مخصوص حالات کے پیش نظر آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت جاری کی جا رہی ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں نظیر (precedent) کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔مذکورہ بالا کے مطابق، عرضی کو نمٹا دیا گیا۔










