نون چائے گلی: بارہمولہ میں روایت، ذائقہ اور تاریخ کا حسین امتزاج

نون چائے گلی: بارہمولہ میں روایت، ذائقہ اور تاریخ کا حسین امتزاج

جدید کافی کلچر کے باوجود کشمیری نمکین چائے کی روایت برقرار

سرینگر/// یو این ایس/ بارہمولہ کے قلب میں واقع’’نون چائے گلی‘‘آج بھی بدلتے وقت کے باوجود کشمیری تہذیب و ثقافت کی ایک زندہ علامت کے طور پر قائم ہے۔ تنگ مگر مصروف اس گلی میں روایتی چائے خانوں اور کندور دکانوں کی قطاریں نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچتی ہیں، جہاں صدیوں پرانی نمکین گلابی چائے یعنی ’نون چائے‘اپنی اصل شکل میں پیش کی جاتی ہے۔دریائے جہلم کے کنارے اردو مارکیٹ میں واقع اس گلی میں تقریباً آٹھ نون چائے کے اسٹال اور کئی کندور دکانیں موجود ہیں، جہاں بارہمولہ کی مشہور بیکری مصنوعات جیسے باقرخانی اور کلچے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ گلی نہ صرف ایک بازار ہے بلکہ کشمیری طرزِ زندگی کی عکاس ایک ثقافتی پہچان بھی ہے۔یو این ایس کے مطابق 46 برس سے چائے فروشی سے وابستہ ایک دکاندار کے مطابق نون چائے کی تیاری ایک فن ہے جس میں صبر اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ چائے کی پتی کو بیکنگ سوڈا کے ساتھ اْبال کر گہرا رنگ دیا جاتا ہے، پھر ٹھنڈا پانی ڈال کر عمل کو روکا جاتا ہے۔ اس کے بعد دودھ شامل کیا جاتا ہے جس سے چائے کا مخصوص گلابی رنگ ابھرتا ہے۔ چائے کو بار بار اْچھال کر جھاگ پیدا کی جاتی ہے اور آخر میں اسے گرم گرم پیش کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مکھن اور پسا ہوا ناریل اس کے ذائقے کو مزید بڑھاتے ہیں، جبکہ روایتی طور پر اسے سماوار میں تیار کیا جاتا ہے۔مقامیبیکری فروش کے مطابق نون چائے کے ساتھ کلچہ، گردہ، ژوچ ور اور نان جیسی اشیاء کی مانگ بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا’’ یہ مصنوعات بیرونِ ریاست اور بیرونِ ملک بھی لے جاتے ہیں، خاص طور پر باقرخانی ہماری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی شے ہے۔‘اسی طرح تانوئی احمد شیخ کا کہنا ہے کہ نون چائے فروش اور کندور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ انہوں نے کہایہی امتزاج لوگوں کو بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتا ہے۔‘‘تاہم، بدلتے معاشی حالات نے اس تاریخی گلی کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ دکاندار فیاض احمد کے مطابق پہلے قریبی ضلع اسپتال اور سرکاری دفاتر کی وجہ سے یہاں کاروبار عروج پر تھا، لیکن ان اداروں کی منتقلی کے بعد آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘اب کئی دکانیں بمشکل اخراجات پورے کر رہی ہیں اور بینک قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔’’ دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں دوبارہ سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔مقامی افراد کے مطابق نون چائے گلی آج بھی ایک اہم سماجی مرکز ہے، جہاں لوگ نہ صرف چائے پینے بلکہ ملاقات اور میل جول کے لیے بھی آتے ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض اور مسافر یہاں رک کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر اپنے کام کی طرف جاتے ہیں۔یہ گلی اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح روایت اور ثقافت جدید تبدیلیوں کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ نون چائے گلی نہ صرف ایک بازار ہے بلکہ کشمیری شناخت، مہمان نوازی اور ذائقے کی ایک زندہ داستان بھی ہے۔