حفاظتی انتظامات مزید سخت،ہنگامی امداد کیلئے خصوصی ریسکیو ٹیمیں 21 مقامات پر تعینات
سرینگر//سالانہ امرناتھ یاترا کے پْرامن، محفوظ اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس اور دیگر امدادی و سکیورٹی اداروں نے اپنی تیاریاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعرات کو جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات نے 45 خصوصی ماؤنٹین ریسکیو ٹیموں کو امرناتھ یاترا کے دونوں روایتی راستوں پر تعیناتی کے لیے روانہ کیا۔یو این ایس کے مطابق یہ ٹیمیں جموں و کشمیر پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس سنٹرل ریزرو پولیس فورس سشسترا سیما بل اور بارڈر سکیورٹی فورس کے تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ حکام کے مطابق ان ٹیموں کو امرناتھ غار کی جانب جانے والے پہلگام اور بالتل راستوں پر 21 حساس اور اہم مقامات پر تعینات کیا جائے گا تاکہ یاتریوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر ایس ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر امتیاز حسین میر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاترا ملک کی اہم ترین مذہبی زیارتوں میں شمار ہوتی ہے اور ہر سال لاکھوں عقیدت مند ملک کے مختلف حصوں سے اس مقدس غار کی زیارت کے لیے کشمیر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران زائرین کی حفاظت، رہنمائی اور امداد کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔یو این ایس کے مطابق امتیاز میر نے کہا کہ ماؤنٹین ریسکیو ٹیموں کو دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں کام کرنے کی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ ان اہلکاروں کو برفانی طوفان، لینڈ سلائیڈنگ، اچانک موسم کی خرابی، پہاڑی حادثات اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیشتر اہلکار ماضی میں بھی متعدد مرتبہ امرناتھ یاترا کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں یاترا روٹس کے جغرافیائی اور موسمی حالات سے مکمل واقفیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ٹیموں کا بنیادی مقصد یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہے۔ اگر کسی یاتری کی طبیعت خراب ہو جائے، کوئی حادثہ پیش آئے یا کسی قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑے تو ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر امدادی کارروائی انجام دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ایس ڈی آر ایف ڈائریکٹر کے مطابق رواں سال ریسکیو ٹیموں کو جدید آلات، بہتر مواصلاتی نظام، طبی امدادی سامان اور خصوصی حفاظتی سازوسامان فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اہلکاروں کی اضافی تربیت بھی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ وہ انتہائی دشوار حالات میں بھی مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات کی روشنی میں اس بار انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مربوط کارروائی ممکن ہو سکے۔یو این ایس کے مطابق دریں اثنا، امرناتھ یاترا کے پیش نظر وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی اور ریسکیو اداروں کی جانب سے موک ڈرلز اور ہنگامی مشقوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق ان مشقوں کا مقصد سکیورٹی تیاریوں، ایمرجنسی رسپانس سسٹم اور مختلف اداروں کے درمیان تال میل کا جائزہ لینا ہے تاکہ یاترا کے دوران کسی بھی چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔جمعرات کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور کولگام اضلاع میں جامع موک ڈرلز کا انعقاد کیا گیا جس میں پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں، صحت محکمہ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور دیگر متعلقہ اداروں نے حصہ لیا۔ مشقوں کے دوران فرضی ہنگامی صورتحال پیدا کرکے مختلف اداروں کی تیاریوں اور ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا کے دوران سکیورٹی، طبی امداد، ٹریفک نظم و نسق، مواصلاتی سہولیات اور ہنگامی امدادی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واضح رہے کہ رواں سال سالانہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہوگی اور 28 اگست تک جاری رہے گی۔ یاترا کے دوران لاکھوں عقیدت مند مقدس امرناتھ غار کا رخ کرتے ہیں، جس کے پیش نظر انتظامیہ، سکیورٹی فورسز اور امدادی ادارے مشترکہ طور پر وسیع پیمانے پر انتظامات کر رہے ہیں تاکہ یہ مذہبی سفر محفوظ، پْرامن اور کامیاب انداز میں مکمل ہو سکے۔










