سیاحتی گاڑیوں پر حد مقرر کرنے کی ضرورت، حکومت نوٹس لے// التجا مفتی
سرینگر// جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ امرناتھ یاترا کشمیری عوام کے لیے ملک بھر سے آنے والے لوگوں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور اپنی مہمان نوازی، ہمدردی اور حسنِ سلوک کے ذریعے تعصبات اور بداعتمادی کو ختم کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔یو این ایس کے مطابق سونمرگ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے محبت، رواداری اور بھائی چارے کی سرزمین رہا ہے اور امرناتھ یاترا کے دوران ان اقدار کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں آنے والا ہر یاتری یہاں کے لوگوں، تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر تاثر لے کر واپس جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کشمیری عوام کو چاہیے کہ وہ یاتریوںکا خیرمقدم کریں اور انہیں اپنے حسنِ اخلاق اور مہمان نوازی سے متاثر کریں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ “یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اسلام اور کشمیر کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔” انہوں نے زور دیا کہ محبت، شفقت اور انسانیت کے جذبے کے ذریعے ہی غلط فہمیوں اور منفی تصورات کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ امرناتھ یاترا نہ صرف ایک مذہبی سفر ہے بلکہ مختلف مذاہب، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا بھی ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کی یاترا پرامن ماحول میں منعقد ہوگی اور کشمیری عوام اپنی روایتی مہمان نوازی کے ذریعے ملک بھر میں ایک مثبت پیغام پہنچائیں گے۔یو این ایس کے مطابق اس دوران پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے وادی کشمیر کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سیاحتی گاڑیوں کی آمد پر حد مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں التجا مفتی نے کہا کہ رواں سال سرینگر میں ٹریفک کے اچانک بڑھتے دباؤ، خاص طور پر بلیوارڈ روڈ سے نشاط تک کے راستے پر، کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں سیاح فضائی سفر کے بجائے اپنی گاڑیوں کے ذریعے وادی کا رخ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی پہلے سے ہی مصروف اور تنگ سڑکیں اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں، جبکہ اس کا براہ راست اثر وادی کے نازک ماحولیاتی نظام پر بھی پڑ رہا ہے۔التجا مفتی نے کہا کہ وادی کی سڑکیں اور ماحولیات دونوں ہی گاڑیوں کے اس غیر معمولی رش کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور سیاحتی گاڑیوں کی تعداد کو منظم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔پی ڈی پی رہنما نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹریفک کے مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیر کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ وادی کی قدرتی خوبصورتی اور وسائل آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔










