مادری زبان میں اظہار خیال کرنے والے ارکان کو مشکلات درپیش ،اسپیکر اسمبلی کا اعتراف
سرینگر/ / یو این ایس / جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا ہے کہ حکومت اسمبلی میں کشمیری زبان کے استعمال کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت اسمبلی میں مترجم کی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث ان ارکان کو مشکلات کا سامنا ہے جو اپنی مادری زبان کشمیری میں ایوان کے اندر اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں۔اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اتوار کو یہاں ایک تقریب کے موقع پر اس معاملے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں مختلف پہلوو ¿ں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کے مطابق فی الحال اسمبلی میں کشمیری زبان کے لیے کوئی مترجم موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے کشمیری میں کی جانے والی تقریر کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانے میں دشواری پیش آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور حکومت مناسب انتظامات کرنے پر غور کر رہی ہے۔اسپیکر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی بھی رکن کو کشمیری زبان میں بولنے سے نہیں روکا۔ ان کے مطابق انہوں نے ایسے ارکان سے صرف یہ کہا تھا کہ وہ کشمیری میں اپنا اظہار خیال کرسکتے ہیں، تاہم مترجم کی عدم دستیابی کے باعث ان کی بات کو اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔حالیہ موسم خزاں اجلاس کے دوران بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جب رکن اسمبلی مبارک گل نے کشمیری زبان میں ایک مسئلہ ایوان میں اٹھایا۔ انہیں بتایا گیا کہ اسمبلی میں مترجم موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کشمیری زبان میں دیے گئے بیان کو ریکارڈ نہیں کیا جاسکتا۔اسپیکر نے کہا کہ کشمیری زبان کے استعمال سے متعلق مسئلے کو مستقبل میں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ ارکان کو اپنی مادری زبان میں اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی گفتگو کو اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنانے میں بھی سہولت حاصل ہوسکے۔اسپیکر یہ باتیں سوپور میں مرحومہ عتیقہ بانو کی خدمات اور ان کے قائم کردہ میراس محل میوزیم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ یومِ میراث پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر کہہ رہے تھے۔










