وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ’’ ڈبل انجن ‘‘ والی سرکار لوگوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو عملی جامعہ پہنائی گی / امیت شاہ

اسمبلی انتخابات سے پہلے پہاڑی برادری کوST کا درجہ اورسیاسی ریزرویشن

مودی سرکار پہاڑی قبیلے کے حقیقی مسائل سے پوری طرح واقف ہے: امت شاہ

سری نگر//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے پہاڑی لیڈروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اُنہیں یونین ٹیریٹری میں اسمبلی انتخابات سے پہلے شیڈول ٹرائب (ST) کا درجہ اور سیاسی تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق گزشتہ روز نئی دہلی میں امت شاہ سے ملاقات کرنے والے کچھ لیڈروں نے میڈیاکو بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نہ صرف اُنہیں ایس ٹی کا درجہ دینے اور سیاسی تحفظات دینے کا یقین دلایا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ یہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کیا جائے گا۔یادرہے جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پہلی بار درجہ فہرست ذاتوں وقبائل کو 16 فیصد ریزرویشن دی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں ایس ٹی کیلئے 9نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ درج شیڈول کاسٹ یعنی فہرست ذاتوں کیلئے سات نشستیں مخصوص ہیں۔معلوم ہواکہ جموں وکشمیر کے پہاڑی لیڈروںنے نئی دہلی میں پہلے بھاجپا کے جنرل سیکرٹری ترون چگ سے ملاقات کی اور پھر وہ امت شاہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔ترون چگ نے بعد میں کہا کہ پہاڑیوں کو پہلے تعلیم، نوکریوں اور روزگار میں نظر انداز کیا جاتا تھا لیکن نریندر مودی حکومت کی کوششوں سے اب انہیں ان کا حق مل جائے گا۔انہوںنے مزید کہاکہ ہم ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔سابق ایم ایل سی وبود گپتا کی قیادت میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے والے پہاڑی قبائلی رہنماؤں میں سابق وزیر مشتاق بخاری، محمد اقبال ملک، محمد رفیق چشتی، سابق ایم ایل سی سعید رفیق شاہ، ڈی ڈی سی ممبر قیوم میر، ڈی ڈی سی ممبر سہیل ملک، راجہ وقار آصف، خورشید احمد میر، ایڈووکیٹ احسن مرزا، گرودیو ٹھاکر، سعید الطاف اور عاشق رفیق منگلال شامل ہیں۔اس میٹنگ میں پہاڑی قبیلے کے مختلف حقیقی مطالبات سے متعلق ایک نمائندگی بھی مرکزی وزیر داخلہ کو پیش کی گئی۔ یہ نمائندگی بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینا کی رہنمائی میں کی گئی۔اس میٹنگ کے دوران وبودگپتا نے امت شاہ کو بتایا کہ پہاڑی قبیلہ جموں و کشمیر میں12 لاکھ کی قابل ذکر آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبیلہ پچھلی کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں رہنے والے گجروں، بکروالوں اور گڈیوں کو ایس ٹی کا درجہ دینے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔پہاڑی قبیلے کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے پہاڑی رہنماؤں نے کہا کہ ایل او سی کے قریب رہنے والی یہ پہاڑی برادری ماضی میں تقسیم، دو جنگوں اور دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے پہاڑی قبیلے کو 4فیصد ریزرویشن فراہم کرنے اور پہاڑیوں کی حالت زار کو تسلیم کرنے کے لئے امت شاہ اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ آج پہاڑی قبیلے کو مرکزی قیادت سے خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔پہاڑی قبائلی رہنماؤں کے حقیقی مطالبات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے مبینہ طور پر انہیں یقین دلایا کہ تمام حقیقی مطالبات اور خدشات کا خیال رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ضلع راجوری، پونچھ، اوڑی، کیرن، کرناہ ،پہلگام اور شوپیاں میں رہنے والی پہاڑی قبائلی برادری گزشتہ 70 سالوں میں پہلے ہی نقصان اٹھا چکی ہے اور اس بار مودی حکومت ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار پہاڑی قبیلے کے حقیقی مسائل سے پوری طرح واقف ہے اور ملک کی خاطر اس محب وطن برادری کی عظیم قربانیوں کو بھی تسلیم کرتی ہے۔مرکزی وزیرداخلہ نے پہاڑی لیڈروں کو یہ بھی یقین دلایا کہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس مودی حکومت کا مشن ہے اور ہم اس پر پوری طرح عمل کریں گے اور پہاڑی قبائلی برادری کو انصاف فراہم کیا جائے گا‘‘۔اس موقع پر امت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ پورا ملک جموں و کشمیر سے محبت کرتا ہے اور پہاڑی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ وزیراعظم مودی کے تصور اور مشن کے مطابق ایک مضبوط اور متحرک نئے جموں و کشمیر بنانے کے لیے مشن موڈ میں کام کریں۔