سرینگر//ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کہا ہے کہ جو بھی شخص ملکی یا غیر ملکی سفر سے کشمیر آئینگے انہیں سرینگر ائرپورٹ میں RTPCRآر ٹیسٹ کرنا لازمی ہے اور جب تک رپورت کی تشخیص سامنے نہیں آئے گی ،تب تک انہیں انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی قائم کئے گئے قرنطینہ مراکزمیں رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سفر کرنے والے مقامی مسافروں کے خلاف اپنی سفری ہسٹری چھپانے والے کے پاداش میں قانونی چارہ جوئی کے علاوہ ان پر 20 ہزار روپیہ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کوروناوائرس کے بارے میں کہا کہ جن مسافروں کا ٹیسٹ مثبت پایا جائے گا انہیں ڈی آر ڈی او کے خصوصی اہسپتالوں میں علاج کے لئے منتقل کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ جن مسافروں کا ٹیسٹ منفی آتا ہے تو انہیں بھی احتیاطی طور 7 دنوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔محمد اعجاز اسد نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی بھی مسافر اپنی سفری معلومات کو چھپائے گا، اس پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ قانون کے تحت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وادی کشمیر خاص کر شہر سرینگر میں کورونا کے مثبت معاملات میں ہو رہے اضافے کے پیش نظر خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو کورونا کے رہنما خطوط پر عمل پیرا رہنے کا پابند بنایا جا سکے۔موصوف ضلع مجسٹریٹ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’کورونا وائرس کے اومی کرون ویرینٹ کے خدشات کے پیش نظر بین الاقوامی مسافروں اور مقامی مسافروں جنہوں نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بیرونی ممالک کا سفر کیا ہو کا سری نگر ہوئی اڈے پر ٹیسٹ کرنا ضروری ہے اور ٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک ان کو کورنٹائن کیا جائے گا‘۔ان کا کہنا تھا: ’کورنٹائن کے بھی دو قسم ہیں ایک مفت کورنٹائن ہے جو سرکار کی طرف سے ہے اور دوسرے کورنٹائن کے لئے پیسے ادا کرنے ہیں‘۔اعجاز اسد نے کہا کہ آج یعنی جمعرات کو جتنے بھی بین الاقوامی مسافر سری نگر ہوائی اڈے پر اترے انہیں کورنٹائن کیا گیا۔انہوں نے کہاجن کا ٹیسٹ مثبت آئے گا ان کا الگ پروٹوکال ہے اور جن کا منفی آئے گا ان کا بھی الگ پروٹوکال ہے‘۔جن کا ٹیسٹ منفی آئے گا ان کو ایک ہفتے تک ہوم کورنٹائن یا ہوٹل کورنٹائن میں رکھا جائے گا جہاں ایک چیف میڈیکل افسر ان کی نگرانی کرے گا اور اس دوران جن میں علامات نظر آئیں گی ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا‘۔موصوف ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ اپنی بین الاقوامی سفری ہسٹری چھپانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے علاوہ ان پر بیس ہزار روپیہ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کورونا گائیڈ لائنز کے عمل در آمد کو یقینی بنانے کے لئے جو وقتاً فوقتاً اقدامات اٹھائے گئے انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وبا بہت ہی دھوکہ باز ہے اور جب جب ہمیں لگتا ہے کہ اس میں کمی واقع ہوئی ہے تو وہ پلٹ کر ہم پر حملہ کرتا ہے۔اعجاز اسد نے کہا کہ اس نئے ویرینٹ نے بچنے کا ذریعہ کورونا پروٹوکال پر من و عن عمل پیرا ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ویکسینیشن بھی ہوئی اور ماسکس کا استعمال بھی کیا گیا وہاں انفیکشن نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ صوبائی کمشنر پی کے پولے کی سربراہی میں منعقدہ حالیہ ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ بین الاقوامی سفری کرنے والوں کو سری نگر ہوائی اڈے پر کورناٹائن کیا جائے گا اور جن مقامی لوگوں نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بیرونی ممالک کا دورہ کیا ہے اگر وہ اپنی سفری ہسٹری چھپائیں گے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان پر بیس ہزار روپیہ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔موصوف صوبائی کمشنر نے ضلع مجسٹریٹ بڈگام کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی مسافروں کو سری نگر ہوائی اڈے سے کورنٹائن سینٹروں تک پہنچانے کے لئے ایس آر ٹی سی گاڑیوں کے علاوہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا بھی بندو بست کریں۔










