سری نگر//حکومت نے پیر کو جموں و کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (JKIMPARD) میں فیکلٹی ممبران کی مبینہ غیرقانونی تقرریوںسے متعلق معاملے کی ’ٹائم بائونڈ‘تحقیقات کیلئے ایک5رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ،جسکے سربراہ فائنانشل کمشنر(ایڈیشنل چیف سیکرٹری)بنائے گئے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق جنرل سیڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں تعینات حکومت کے سیکرٹری ڈاکٹر پیوش سنگلا(آئی اے ایس) کی جانب سے23جنوری2023کواس حوالے سے حکومتی ہدایت پرایک گورنمنٹ آرڈر زیر نمبر85-JK(GAD)آف2023جاری کیاگیا۔اس سرکاری حکمنامے میں کہاگیاہے کہ جموں و کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (JKIMPARD) میں فیکلٹی ممبران کی مبینہ غیرقانونی تقرریوںسے متعلق معاملے کی ’ٹائم بائونڈ‘تحقیقات کیلئے ایک5رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ،جسکے سربراہ فائنانشل کمشنر(ایڈیشنل چیف سیکرٹری)محکمہ داخلہ بنائے گئے ہیں جبکہ اس کمیٹی کے ممبران میں ڈائریکٹر جنرل جے اینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک مینجمنٹ، ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ، حکومت کے سیکریٹری برائے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری محکمہ قانون، انصاف وپارلیمانی امور اور ڈائریکٹر جنرل (کوڈز)، محکمہ خزانہ شامل ہیں۔آرڈر کے مطابق 5رکنی کمیٹی جموں و کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (JKIMPARD) میں فیکلٹی ممبران کی غیر قانونی تقرریوں کے بارے میں حکومت کو پہلے رپورٹ نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں بھی پوچھ تاچھ کرے گی، جو موجودہ ڈائریکٹر جنرل کی مدت سے پہلے کی ہیں۔اس کے علاوہ، اس سے پوچھا گیا ہے کہ گورننگ کونسل کے اجلاسوں کی تعداد کے مطابق جو اصولوں کے تحت منعقد ہونے کی ضرورت ہے، اس کے مطابق پچھلے5سالوں میں ہونے والی میٹنگوں کی اصل تعداد اور کیا کبھی’غیر قانونی تقرریوں‘ کا معاملہ گورننگ کونسل کے ممبران کے سامنے آیا تھا۔مزید برآں یہ کمیٹی JKIMPARDکے پچھلے5سالوں کے مجموعی کام کاج کا بھی جائزہ لے گی اور پائیدار بنیادوں پر کام،تعلیمی ماحول، انتظامی صلاحیتوں اور ادارہ جاتی سالمیت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔گورنمنٹ آرڈر میں مزیدلکھا گیا ہے کہاکہ کمیٹی کو JKIMPARD تعاون فراہم کرے گا،اوریہ کہ پانچ رکنی کمیٹی کوایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔










