لندن/ ایجنسیز // برطانیہ نے اسائلم پالیسی میں تبدیلی کے بعد امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا۔برطانیہ میں قانونی طور پر آنے والے امیگرینٹس کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر آنے والوں کو مستقل رہائش کیلیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔وزیرداخلہ شابانہ محمود نے امیگریشن پالیسی پربات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے لازم ہیکہ ان کا کریمنل ریکارڈ نہ ہو،اے لیول کے معیار کی انگریزی بولنے میں مہارت رکھتا ہو، ان پر ملک میں کوئی قرضہ بھی نہیں ہونا چاہیے، نئے مجوزہ قواعد کا اطلاق برطانیہ میں پہلے سے موجود افراد پر بھی ہوگا۔اس تجویز کے تحت مختلف کیٹیگریز کے لیے سیٹلمنٹ کا وقت بھی مختلف ہوگا، وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ مستقل رہائش کے لیے رجوع کرنے سیقبل برطانیہ میں قیام کی مدت 5 کے بجائے 10 برس کردی جائے گی۔شبانہ محمود نے بتایا کہ این ایچ ایس کے لیے خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور نرسیں 5 برس بعد ہی مستقل رہائش کے لیے رجوع کرسکیں گے، ذہین افراد کو فاسٹ ٹریک کے ذریعے اور زائد آمدنی اور انٹرپینیورز 3 برس بعد ہی مستقل رہائش کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ٹوٹے ہوئے امیگریشن نظام کو منصفانہ اور انضمام کے نظام سے بدلنا چاہتی ہوں، میرے والدین بھی بہتر زندگی کے لیے برطانیہ آئے اورپھر مقامی شہری بن گئے۔
گنّا کسانوں کی چینی کے گوداموں کو مقفل کرنے کی دھمکی
نئی شادی شدہ خواتین کو فی کس ایک لاکھ روپئے کا تحفہ
سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17نومبر کو اگلی سماعت
بھارت اب کمزور ملک نہیں ،ہماری دفاعی صلاحیتوں میں کافی اضافہ
جموں۔سرینگر قومی شاہراہ دونوں سمتوں سے کھلی
’نیشنل کانفرنس ایک خاندان ہے‘
مبارک گل کو کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر حامیوں کاسری نگر میں احتجاج، پارٹی سے استعفے کا مطالبہ
آج سائیکل ریس کے پیشِ نظر ٹریفک پابندیاں
اراضی قوانین کی خلاف ورزی پر ریونیو افسر کے خلاف کارروائی
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموںوکشمیر کی ووشو او رتائیکوانڈو ٹیموں کو نیشنل سکول گیمز میں ٹرافیاں جیتنے پر مُبارک باد دِی










