کمونٹی ہیلتھ سنٹر کا درجہ بڑھانے اور ضلع میں زچہ بچہ ہسپتال قائم کرنے کامطالبہ
سرینگر// شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں 1979میں قائم کیا گیا کمونٹی ہیلتھ سنٹر آج بھی اسی نہج پر چلایا جارہا ہے۔ پانچ لاکھ کی آبادی کیلئے نہ زچہ بچہ ہسپتال اور ناہی بہتر طبی سہولیت دستیاب ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کپواڑہ 1979 میں ضلع کا درجہ ملا جبکہ اس سے پہلے یہ بارہمولہ ضلع کا حصہ تھا۔اْس وقت ضلع میں کمونٹی ہیلتھ سنٹر قائم کیا گیا تھا جو کہ 50 بستروں پر مشتمل تھا اور پھر اس کو اپ گریڈ کرکے 100بیڈوں والا ہسپتال بنایا گیا لیکن تب سے آج تک نہ ہی اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا اور ناہی عملے میں اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں پر مشتمل آبادی کو طبی سہولیات دستیاب نہیں ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق کمونٹی ہیلتھ سنٹر سے لولاب، کرناہ ، کیرن ، مڑھل ، ترہگام ، چوکی بل، بو ہامہ کی قریب 5 لاکھ آبادی کو طبی سہویات فراہم کی جاتی ہے اور اس بڑی آبادی کیلئے نہ اس ہسپتال کو اپ گریڈ کیا گیا اور ناہی آج تک اس میں عملہ بڑھایا گیا۔ جبکہ ضلع میں ابھی تک کوئی اعلیٰحدہ زچہ بچہ ہسپتال بھی موجود نہیں ہے اور ناہی ان دور دراز کے علاقوں میں ایمبولنسی دستیاب ہے جس کی وجہ سے ایک مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لوگوں نے اس ضمن میں حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس لاکھوں کی آبادی والے ضلع میں کم سے کم ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال اور ایک زچہ بچہ ہسپتال قائم کریں تاکہ لوگوں کو سرینگر یا دیگر اضلاع میں علاج کیلئے جانا نہ پڑے۔










