چناب ویلی میں 48 گھنٹوں کے دوران تین3 سیلابی ریلے،ڈوڈہ اور کشتواڑ میں تباہی

ڈوڈہ،کشتواڑ شاہراہ متاثر، کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ زیرِ آب، متعدد مکانات اور گاڑیوں کو نقصان

سرینگر// چناب ویلی میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فلیش فلڈ کے تین الگ الگ واقعات نے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث مکانات، دکانوں، سڑکوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ اہم ڈوڈہ-کشتواڑ قومی شاہراہ کئی مقامات پر بند ہوگئی اور زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بھی متاثر ہوا۔ تاہم حکام کے مطابق ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یو این ایس کے مطابق تازہ واقعہ منگل کے روز ڈوڈہ ضلع کے ٹھاٹھری قصبے کے بالائی علاقوں میں پیش آیا، جہاں موسلا دھار بارش کے بعد آنے والے فلیش فلڈ نے پتھر، مٹی اور ملبہ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں پہنچا دیا۔ اس دوران متعدد مکانات اور دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ سڑک کنارے کھڑی کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چند گاڑیاں دریائے چناب میں بھی بہہ گئیں، تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔فلیش فلڈ کے باعث ٹھاٹھری کے مقام پر ڈوڈہ-کشتواڑ شاہراہ بھی بند ہوگئی، جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر بحالی کا کام شروع کر دیا۔اس سے ایک روز قبل بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں ڈوڈہ اور کشتواڑ میں فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے تھے، جن سے قومی شاہراہ-244 کے پریم نگر علاقے کو شدید نقصان پہنچا اور زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں پانی، مٹی اور بڑے پتھر داخل ہونے سے بھاری مشینری، ڈمپر اور بلڈوزر ملبے تلے دب گئے۔ حکام نے بتایا کہ اگرچہ منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور تمام کارکن محفوظ رہے۔یو این ایس کے مطابق ووڈہ ضلع کے ٹھاٹھری علاقے میں شدید بارش کے باعث آنے والے فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں قومی شاہراہ NH-244 پیر کے روز بند ہوگئی، جبکہ شاہراہ کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔سرکاری حکام کے مطابق بھاری مقدار میں مٹی، پتھر اور ملبہ شاہراہ پر آ گرنے سے فوجی کیمپ کے قریب ٹریفک مکمل طور پر متاثر ہوگئی۔ حکام نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن کے قریب شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔تاہم مسجد پوائنٹ پر مقامی لوگوں نے بحالی کا کام شروع نہیں ہونے دیا۔ متاثرہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فلیش فلڈ کا ملبہ ان کے گھروں میں داخل ہوگیا، جس سے مکانات، گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ متاثرین نے نقصان کے ازالے کے لیے مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ اور سب ڈویڑنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری موقع پر پہنچ گئے ہیں اور مقامی افراد کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ مسئلے کا پرامن حل نکالا جا سکے اور بحالی کا کام دوبارہ شروع ہو سکے۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے ملبہ مکمل طور پر ہٹانے اور ٹریفک بحال کرنے میں تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے لیے مشینری اور عملہ مسلسل کام کر رہا ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے واقعہ کے فوراً بعد جموں کے ڈویڑنل کمشنر سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور منصوبے کے اہم ڈھانچے محفوظ ہیں۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کرشن لال نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے تمام متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پریم نگر، چرالہ اور بگنا سمیت مختلف سڑکوں سے ملبہ ہٹا کر ٹریفک کی بحالی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہر شدید بارش کے واقعے کو بادل پھٹنے کا نام نہ دیا جائے، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کے باعث مٹی اور پتھر نیچے آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر یقین نہ کرنے اور معلومات کے لیے ضلع کنٹرول روم سے رابطہ کرنے کی بھی اپیل کی۔یو این ایس کے مطابق ادھر محکمہ موسمیات نے 6 سے 8 جولائی کے درمیان جموں خطے کے حساس علاقوں میں شدید بارش، گرج چمک، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا انتباہ جاری کیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامبا میں 90 ملی میٹر، کٹھوعہ میں 66.2 ملی میٹر، کٹرا میں 44.4 ملی میٹر، ڈوڈہ میں 42 ملی میٹر، جموں میں 41.8 ملی میٹر، اودھم پور میں 40.6 ملی میٹر، بھدرواہ میں 33.6 ملی میٹر اور کشتواڑ میں 24 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران چناب ویلی اور پیر پنجال کے حساس علاقوں میں وقفے وقفے سے شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر فلیش فلڈ، مٹی کے تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے مزید واقعات پیش آسکتے ہیں۔ انتظامیہ نے ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔