ترواننت پورم/یو این آئی//آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن کے سی وینوگوپال نے میانمار میں انسانی اسمگلنگ میں پھنسے 44 ہندوستانیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت خارجہ سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے ۔میانمار میں پھنسے 44 ہندوستانی شہریوں میں کیرالا کے پانچ شہری بھی شامل ہیں۔ وینوگوپال نے کہا کہ متاثرین کو وحشیانہ جسمانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے فون، پاسپورٹ اور دیگر سامان ضبط کر لیا گیا، جس وجہ سے وہ پوری دنیا سے کٹ گئے ہیں۔متاثرین کو مبینہ طور پر میانمار کے ڈونگمئی پارک میں جعلسازوں نے سخت حالات میں رکھا ہے ، جس وجہ اہل خانہ کافی پریشان ہیں۔ وینوگوپال نے خط میں لکھا ہے کہ متاثرین میں سے ایک کیرالا کے کاسرگوڈ کے پدننا کے رہنے والے مشہود علی نے 10 دن پہلے ہندوستانی سفارت خانہ میں شکایت درج کرائی تھی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مشہود علی نے انکشاف کیا کہ اسمگلر بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو بھرتی کرنے کے لیے فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔
، اس گھپلے میں ایسے لوگوں کو نوکریوں کا فرضی آفر کا لالچ دیا جاتا ہے اور پھر انہیں دوسروں کو بھرتی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ متاثرین سے یورپ کی ایک کمپنی کے پیکنگ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ ہر شخص سے 3 سے 5 لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد، اسمگلر ان کا اعتماد جیتنے کے لیے انہیں دو ماہ کا ویزا اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ فراہم کرتے ہیں۔شروعات میں بنکاک بھیجا جاتا ہے اور فرضی طور پر کام پر رکھا جاتا ہے ۔پھر انھیں بتایا جاتا ہے کہ انھیں بہتر روزگار کے لیے برطانیہ بھیجا جائے گا، لیکن اس کے بجائے انھیں خفیہ طور پر میانمار بھیج دیا جاتا ہے ۔ مشہود علی نے بتایا کہ کولم کا ایک اور شکار جشنو جو اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہتا تھا، گزشتہ روز سے لاپتہ ہے ۔ مبینہ طور پر جشنو کا اسمگلروں سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور تب سے وہ لاپتہ ہے ۔وینوگوپال نے زور دے کر کہا کہ وزارت خارجہ اور ہندوستانی سفارت خانے کی لا پروائی سے صورتحال مزید خراب ہوگی ،انہوں نے حکومت اور ہندوستانی سفارت خانے پر زور دیا کہ وہ مشن کی قیادت میں فوری مداخلت کریں اور متاثرین کو بغیر کسی تاخیر کے ہندوستان واپس لانے کو یقینی بنائیں۔اطلاعات کے مطابق وینوگوپال نے وزیر خارجہ سے ذاتی طور پر بھی بات کی تاکہ انہیں متاثرین کی سنگین حالت سے آگاہ کیا جاسکے اور مسٹر جے شنکر نے انہیں فوری کارروائی کا یقین دلایا۔
آل بانسبیڑیا اردو اسٹوڈینٹس کمیٹی کی جانب سے ایک کامیاب مضمون نویسی مقابلہ کا انعقاد
حج 2027: محرم کوٹے کے تحت 500 عازمین منتخب
کرگل خطے کے لوگوں کیلئے اہم انتظامی پیش رفت
حادثات اور خودکشی کی کوششوں کی روک تھام کیلئے اقدام
کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے توہین آمیز رویے کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں
احتجاج کے بجائے باہمی افہام و تفہیم اور قومی تعمیر و ترقی کا راستہ اختیا ر ہونا چاہئے
بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی پہل
میٹنگ کے دوران آئی اے ایس آفیسر کی خاتون JKASافسر کے ساتھ بدسلوکی
چیف سیکرٹری نے جموں اور سری نگر کیلئے کثیر الجہتی ٹریفک مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا
بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے سالانہ اِمتحانات سے قبل شکایات کے اَزالے کیلئے ایک سیل قائم کیا










