احتجاج کے بجائے باہمی افہام و تفہیم اور قومی تعمیر و ترقی کا راستہ اختیا ر ہونا چاہئے

احتجاج کے بجائے باہمی افہام و تفہیم اور قومی تعمیر و ترقی کا راستہ اختیا ر ہونا چاہئے

نوجوانوں کو انتشار کی سیاست میں مہرے کے بطور استعمال کی اجازت نہیں / راجناتھ سنگھ

سرینگر / این این بی // جمہوریت کسی کو بھی بدامنی پھیلانے، انتشار کو ہوا دینے یا آئینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی بنگلہ دیش جیسی حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو نئی دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت میں بنگلہ دیش کی طرز پر حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں اور نوجوانوں کی توانائی کو تعمیری سرگرمیوں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے بجائے سیاسی تصادم اور انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جمہوریت کسی کو بھی بدامنی پھیلانے، انتشار کو ہوا دینے یا آئینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی، براہ راست اور اپنی حامی تنظیموں کے ذریعے، نوجوانوں کی توانائی کو سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اس توانائی کو تعمیری کاموں اور قوم کی تعمیر کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو انتشار کی سیاست میں مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیاں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں کمزور کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی بھارت میں بھی بنگلہ دیش کی طرز پر حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اپوزیشن رہنما پریس کانفرنسوں میں کھلے عام بنگلہ دیش کے واقعات سے تحریک حاصل کرنے اور حکومت کو گرانے کی بات کرتے ہیں، جس سے ان کے بقول ان کے سیاسی عزائم واضح ہوتے ہیں۔انہوں نے 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والی عوامی تحریک کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھی۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی جیسے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپوزیشن کی مہم محض انتخابی اصلاحات یا ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق مسائل تک محدود نہیں ہے۔اپوزیشن رہنماو ¿ں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہونے کا خدشہ ہے۔راجناتھ سنگھ کے مطابق سیاسی مفادات کی خاطر بھارت کے جمہوری اداروں کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جھوٹ، غصے کی سیاست، اداروں کو بدنام کرنے کی کوششیں اور سیاسی مفاد پرستی ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔راجناتھ سنگھ نے راہل گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے نام پر، ان کے بقول، تباہی کی سیاست کرنے کے بجائے عوام کے فیصلے کا احترام کریں اور اپنے سیاسی کردار کا ازسرنو جائزہ لیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے مستقبل کی ذمہ داری ہر شہری پر عائد ہوتی ہے اور ملک کو تصادم کے بجائے مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور قومی تعمیر و ترقی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری اقدار، آئینی اداروں کے احترام اور ملک کی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔