محکموں کو سڑک کی حفاظت کو یقینی بنانے ،پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور حادثات کے متاثرین کیلئے ایمرجنسی ریسپانس کو مضبوط بنانے کی ہدایت
سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق ملٹی ڈسپلنری کمیٹی( ایم ڈِی سی) میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں جموں اور سری نگر کے دونوںشہروں میں ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے، شہری آواجاہی کو بہتر بنانے اور سڑک کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں سپریم کورٹ کمیٹی برائے روڈ سیفٹی (ایس سی سی او آر ایس)کی سفارشات پر ایکشن ٹیکن رِپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اِس کے علاوہ ٹریفک ریگولیشن، پارکنگ مینجمنٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، نفاذِ قانون اور سڑک حادثات کے متاثرین کی مددسے متعلق مختلف بین ڈیپارٹمنٹل اقدامات کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ، صوبائی کمشنران کشمیر/جموں، کمشنر سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری ٹورازم، اِنسپکٹر جنرل آف پولیس ٹریفک،ڈپٹی اِنسپکٹر جنرل ٹریفک جموں/کشمیر، کمشنر جموں/سری نگر میونسپل کارپوریشنز، وائس چیئرمین ایس ڈِی اے ،جے ڈِی اے، ڈائریکٹر اَربن لوکل باڈیز جموں/کشمیر، وائس چیئرمین لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے دیگر اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے مربوط اورنتائج پر مبنی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ میونسپل کارپوریشنوں کو ہدایت دی کہ وہ دونوں شہروں میں مختلف مقامات پر ٹریفک سائن بورڈوں کی تنصیب او ر مناسبیت کا جائزہ لینے کے لئے باقاعدگی سے معائینے کریں۔ اُنہوں نے متعلقہ صوبائی کمشنروں سے کہا کہ وہ پیش رفت پر کڑی نظر رکھیں اور کوتاہیوں کو بروقت دُور کرنے کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے محکمہ ٹریفک پر زور دیا کہ وہ الیکٹرانک ڈیٹیلڈ ایکسیڈنٹ رپورٹ (ڈِی اے آر ۔ اِی) پورٹل پر دستیاب ڈیٹا کا تجزیہ کرے تاکہ حادثات کے شکار مقامات اور وقت کے لحاظ سے ٹریفک خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی نشاندہی شدہ ہاٹ سپاٹس اور بلیک سپاٹس کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے اور سڑک حادثات کو کافی حد تک کم کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر بھر میں چلنے والی بھاری مسافر گاڑیوں بالخصوص سکول بسوں کے جامع حفاظتی آڈِٹ کرنے کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کی صلاحیت بڑھانے کی تجویز تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔اُنہوں نے پارکنگ مینجمنٹ کے حوالے سے عام لوگوں کی سہولیت کے لئے مناسب جگہوں پرمزید آن سٹریٹ پارکنگ جگہیں مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پارکنگ پالیسی پر عمل درآمد کے تحت یونین ٹیریٹری کے شہری مراکز میں اِضافی پارکنگ لاٹس بنائے جائیں تاکہ غیر منظم پارکنگ سے پیدا ہونے والی بھیڑ پر قابو پایا جا سکے۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِنٹگریٹیڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ نفاذ کو مضبوط بنانے اور مسافروں اور ڈرائیوروں میں تحفظ کا احساس بڑھانے کے لئے دونوں شہروں میں اس نظام کو اَپ گریڈ کر کے اس میں فیشل ریکگنی اشن سسٹم (ایف آر ایس) کی صلاحیتیں شامل کی جائیں۔اُنہوں نے پی ایم ۔ آر اے ایچ اے ٹی سکیم کی عمل آور کے لئے ایک مؤثر شکایات ازالہ نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ جموں و کشمیر کے طبی مراکز میں کسی بھی سڑک حادثے کے متاثر کو بروقت علاج سے محروم نہ رکھا جائے۔
میٹنگ میں وینڈنگ زونز، اِنٹگریٹیڈ روڈ ایکسیڈنٹ ڈیٹا بیس (آئی۔آر اے ڈِی)، اِی کورٹس، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکموں کے نفاذی اَقدامات اورٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور سڑک استعمال کرنے والوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے جاری/مجوزہ سڑک کشادگی اور سڑک تحفظ کے کاموں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ تعمیراتِ عامہ انیل کمار سنگھ نے جموں اور سری نگر کے لئے مجوزہ مختلف ایلیویٹیڈ کوریڈورز کی ویڈیو واک تھرو پیش کیں۔ اُنہوں نے میٹنگ کو سڑکوں کو چوڑا کرنے کے جاری کاموں کی پیش رفت اور کنکٹویٹی کو بہتر بنانے اور ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لئے تجویز کردہ منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔صوبائی کمشنر کشمیرانشل گرگ نے سری نگر اور اس کے آس پاس کئے گئے اقدامات پر تفصیلی پرزنٹیشن دی جن میں پارکنگ مقامات کی نشاندہی، بھیڑ کم کرنے کے اقدامات، آئی ٹی ایم ایس سے چلنے ولاے جنکشنز، اِی چارجنگ سٹیشن، بس سٹاپوں کی دوبارہ تشکیل اور نشاندہی شدہ بلیک سپاٹس کی درستگی شامل ہیں۔
کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ منجیت کورنے پبلک ٹرانسپورٹ کو منظم کرنے، پارکنگ کو ریگولیٹ کرنے، وینڈنگ زونز تیار کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے لئے محکمے اور شہری مقامی اداروں کی جانب سے جاری مختلف اقدامات کی صورتحال پیش کی۔اُنہوں نے منظم پارکنگ سہولیات کی ترقی کے بارے میں بتایا کہ جموں میں سڑک کنارے 17 پارکنگ سائٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے تین فعال ہیں اور سات وینڈرز کو الاٹ کئے جا چکے ہیں۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ سری نگر میں آئی ٹی پر مبنی آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (اے این پی آر) سسٹم ایم اے روڈ، لال چوک، ریذیڈنسی روڈ، جہلم ریور فرنٹ اور کرن نگر سمیت اہم تجارتی علاقوں میں 300 پارکنگ جگہوں کی نگرانی کر رہا ہے۔کمشنر سیکرٹری نے مزید بتایا کہ’ سری نگر سمارٹ سٹی لمیٹڈ ‘کے ذریعے آئی ٹی پر مبنی پارکنگ مینجمنٹ پر کام جاری ہے جبکہ جموں میونسپل کارپوریشن نے پارکنگ سیل قائم کیا ہے اور آئندہ ٹینڈروں میں آئی ٹی پر مبنی پارکنگ انتظامات شامل کرے گی۔ سری نگر میونسپل کارپوریشن پارکنگ زونوں کی منظم نشاندہی اور ریگولیشن کے لئے جی آئی ایس پر مبنی ’پارکنگ مینجمنٹ ائیریا پلان‘ تیار کر رہی ہے۔میٹنگ میں الیکٹرک گاڑیوں کے لئے چارجنگ انفراسٹرکچر کی پیش رفت کابھی جائزہ لیا گیا۔ اِس ضمن میں بتایا گیا کہ جموں میں پی ایم اِی۔ڈرائیوسکیم کے تحت مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں محکمہ ٹرانسپورٹ کے حوالے کیا گیا ہے ۔ اس مقصد کے لئے 15 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اور اِی۔ بس ڈیپو کے لئے تعمیراتی کام جاری ہے ۔ سری نگر میں پانتھہ چوک چارجنگ سٹیشن جس کی گنجائش 100 بسوں کی ہے، تیار کیا جا چکا ہے جبکہ زونی مرسٹیشن 15 گاڑیوں کے لئے فعال ہے۔ بٹہ مالو، ہارون اور بمنہ میں چارجنگ سٹیشنوں پر کام جاری ہے جس کے لئے 13.99 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔میٹنگ کو مزید جانکاری دِی گئی کہ جموں میں چار وینڈنگ زون سائٹس روپ نگر، تالاب تلو، شکتی نگر اور ویو مال کے پیچھے نروال میں فعال ہیں۔ سری نگر میں مگرمل باغ، بٹہ مالو اور نشاط میں وینڈنگ مقامات فعال ہیںجبکہ دیگر اضلاع میں وینڈنگ زونز تیار کئے جا رہے ہیں۔ ٹریفک کے نظم و ضبط بہتر بنانے کے لئے جموں میں 29 اہم ادارہ جاتی مقامات اور سری نگر میں 12 مقامات پر ’ نو ہو نکنگ زونز‘ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پرزنٹیشن میں جنوری تا جولائی 2026 ء کے دوران آئی ٹی ایم ایس کی نفاذی کارکردگی اُجاگر کی گئی۔ جموں میںاس سسٹم کے ذریعے 1,75,384 اِی۔ چالان جاری کئے گئے جن کی مالیت 20.20 کروڑ روپے ہے جن میں سے 11,467 چالان نمٹائے گئے اور 1.04 کروڑ روپے وصول ہوئے۔ سری نگر میں 1,04,311 اِی۔ چالان جاری ہوئے جن کی مالیت 10.50 کروڑ روپے ہے، جن میں سے 3,210 چالان نمٹائے گئے اور 0.19 کروڑ روپے وصول کئے گئے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے میٹنگ کو اَپنے نفاذی اقدامات سے بھی آگاہ کیاجن میں بار بار خلاف ورزیوں پر 68,000 گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کرنا، روڈ ایکسیڈنٹ وِکٹم فنڈ کا استعمال اور علاج کے محتاج حادثاتی متاثرین کے لئے پی ایم۔ آر اے ایچ اے ٹی پر عمل درآمد شامل ہیں۔
2021 ء سے روڈ سیفٹی فنڈز کے تحت مختص 18.14 کروڑ روپے میں سے 13.83 کروڑ روپے ٹریفک کی نگرانی اور نفاذ کے آلات کی خریداری پر خرچ کئے گئے ہیں۔ ان میں ایمبولینس کے علاوہ 560 آہنی ٹریفک بیریکیڈز، 685 باڈی پہننے والے کیمرے، 1000 ٹریفک سیفٹی نائٹ بیلٹس، 19 انٹرسیپٹر گاڑیاں، 16 ہائی پیٹرول گاڑیاں، 23 کرینیں، 36 بریتھ الکحل اینالائزر اور 100 فرسٹ ریسپانر کٹس شامل ہیں۔ 103.50 لاکھ روپے کی لاگت سے 30 کنٹینرائزڈ ٹریفک بوتھس کے لئے ایک جی اِی ایم معاہدہ اور سپلائی آرڈر بھی جاری کیا گیا ہے جس کی پروٹو ٹائپ کی تیاری جاری ہے۔تعمیراتِ عامہ محکمہ نے مزید بتایا کہ سڑک کی حفاظت اور لین مینجمنٹ بہتر بنانے کے لئے 7 ؍مئی 2025 ء کو جموں میںاین ایچ۔44 کے 13 کلومیٹر حصے پر اور کشمیر میں 31 کلومیٹر حصے پر میٹل بیم کریش بیریئرز کی تنصیب مکمل کی گئی۔کمیٹی نے ایس سی سی او آر ایس فریم ورک کے تحت بین محکمہ جاتی ایکشن پوائنٹس کا جائزہ لیاجن میں ضلعی سطح کی روڈ سیفٹی کمیٹیوں کو مضبوط بنانا، روڈ ایکسیڈنٹ وِکٹم فنڈ کو فعال کرنا،پی ایم ۔ آر اے ایچ اے ٹی کو لاگو کرنا،آئی ٹی ایم ایس ، اِی۔ڈِی اے آر ، اِی ۔کورٹس اورآئی۔ آر اے ڈِی کو اِنٹگریٹ کرنا ، بلیک سپاٹس اور ڈارک ہاٹ سپاٹس کا آڈٹ کرنا، سکول بسوں کے سیفٹی آڈٹ اور ٹراما کیئر سہولیات کی صورتحال کا جائزہ شامل ہیں۔چیف سیکرٹر ی نے اِس بات پر زور دیا کہ منظم پارکنگ مینجمنٹ، مؤثر نفاذ، محفوظ سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ اور بروقت ایمرجنسی ریسپانس کو اِنتظامیہ کی کوششوں کا مرکزی حصہ رہنا چاہیے تاکہ عوام کے لئے شہری سفر کو زیادہ محفوظ، آسان اور سہل بنایا جا سکے۔










