چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں سماجی تحفظ کی سکیموں کی رَسائی اور اثرات کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں سماجی تحفظ کی سکیموں کی رَسائی اور اثرات کا جائزہ لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سماجی بہبود محکمہ کی ایک جامع میٹنگ کی صدارت کی تاکہ جموںوکشمیر میں محکمہ کے ذریعے چلائی جانے والی مختلف فلاحی سکیموں کی کارکردگی، رَسائی اور اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود کے علاوہ محکمہ تمام سربراہان اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے سکیموں کے جائزے کے دوران بچوں کی نشوو نما، تغذیہ اور معاشرے کے دیگر پسماندہ طبقوں بشمول جسمانی طور خاص اَفراد، بیواؤں،بزرگ شہریوں اور معاشرے کے مخصوص طبقات کی فلاح و بہبود کے مقصد سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور جاری اَقدامات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے اہم سماجی اِنصاف سے متعلق قوانین جیسے کہ جووینائل جسٹس ایکٹ 2015، خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ کا قانون 2005،جسمانی طور خاص اَفراد کے حقوق کا ایکٹ 2016، خواجہ سرا اَفراد کا ایکٹ 2019، پی او سی ایس او ایکٹ 2012، چائلد میرج پر ہیبیشن ایکٹ 2006 اور ایس سی اورایس پر یوینشن آف ایٹروسٹی ایکٹ 1989پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔انہوں نے آنگن واڑی مراکز میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت داخل بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے عملے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا ۔ اُنہوں نے پسماندہ طبقوں کے طلبأ کو سکالرشپ فراہم کر کے جدید تعلیم تک رَسائی دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود محکمہ سنجیو ورما نے محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ 2024-25 ء کے دوران 2,496.25 کروڑ روپے میں سے 2,147.24 کروڑ روپے (86 فیصد) خرچ کئے گئے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سال 2025-26ء کے لئے بجٹ میں 68 فیصد اضافہ کر کے 4,361.14 کروڑ روپے مختص کیا گیا ۔ اُنہوں نے میٹنگ کوجانکاری دی کہ مشن وتسالیہ بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو پورا کرتا ہے، مشن شکتی خواتین کو بااِختیار بنانے اور تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور پی ایم ۔ جے اے آئی کا مقصد ایس سی کمیونٹیوں کی مجموعی ترقی ہے۔اِسی طرح سنجیوورما نے میٹنگ کو بتایا کہ محکمہ کی طرف سے اقلیتی طبقے، درج فہرست ذاتوں اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سیز) کے لئے وظائف دئیے جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جسمانی طور خاص اَفراد کی مدد کے لئے مصنوعی اعضا (اے ایل آئی ایم سی او ) بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔مزید یہ کہ خواتین کے سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے یہ بھی بتایا گیا کہ لاڈلی بیٹی سکیم کے تحت لڑکیوں کو مالی امداد اور معاشی طور پر کمزور طبقے کی خواتین کو شادی کے لئے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔محکمہ ناگزیر حالات سے متاثر ہونے والوں کے لئے عسکریت پسندی سے متاثرہ کنبوں کو پنشن اورسکالرشپ فراہم کرتا ہے۔محکمہ ریزروڈ زُمرے کی تعلیمی بہتری کی خاطر قبائلی کمیونٹیوں کے لئے پہاڑی ہوسٹل چلاتا ہے اور جموں و کشمیر بھر میں 14 سے زائد سماجی اِنصاف کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے۔میٹنگ میں بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بتایا گیا کہ محکمہ 28,183 آنگن واڑی مراکز کااِنتظام سنبھالے ہوئے ہے۔محکمہ نے ان میں سے 2023-24 ء کے دوران 136 مراکز کو ’’ سَکشم آنگن واڑی‘‘ کے طور پر جدید سہولیات کے ساتھ اَپ گریڈ کیا جب کہ 2024-25 ء میں مزید 202 مراکز اَپ گریڈ کئے جائیں گے۔سپلیمنٹری نیوٹریشن کے اِستفادہ کنندگان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یو ٹی میں کل914,031 اَفراد کو شامل کیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ زُمرے کے لحاظ سے گنتی 38,203 (0 سے 6 ماہ) 340,656 (6 ماہ سے3 سال)، 416،174 (3 سے6 سال)، 93,523حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں (پی ڈبلیو اینڈ ایل ایم: 93,523، 25,475 خواتین کا خصوصی امدادی گروپ) ہے۔ 909,762 (کل استفادہ کنندگان کا 99 فیصد) کی آدھار تصدیق حاصل کی گئی ہے جس سے چوری یا بدانتظامی کے کسی بھی امکان کو ختم کیا گیا ہے۔محکمہ کی جانب سے کئے گئے خصوصی اقدامات کے بارے میں میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ مستحقین تک پہنچنے کے لئے 22,76,067 گھروں کے دورے کئے گئے (23,64,938 اہداف میں سے 96 فیصد)۔ ان کوششوں کے نتیجے میں غذائی قلت کے 24,261 بچے، 69,177 معتدل شدید غذائی تغذیہ اور 20,978 خون کی کمی کے مریض (حاملہ/ دودھ پلانے والی مائیں اور نوعمر لڑکیاں) شامل ہیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جہاں تک بچوں کی فلاح و بہبود کا تعلق ہے مشن وتسالیہ کے تحت 116 ہوم اینڈ چائلڈ کیئر انسٹی چیوٹ (سی سی آئی۔ پلاش اور پریشا) قائم کئے گئے تھے، جو کمزور بچوں کی نگہداشت کو یقینی بناتے ہیں۔پنشن کوریج کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ مختلف سکیموں (این ایس اے پی، آئی ایس ایس ایس، ایس اے سی ایس ایم، ملی ٹنسی) میں 955,958 مستحقین کو سماجی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ سال 2024-25 ء کے دوران 26,000 شادیوں کی حمایت کے لئے 130 کروڑ روپے کی شادی امداد کا استعمال کیا گیا۔محکمہ نے 2025-26ء تک 500 مزید اے ڈبلیو سیز کو سکشم اے ڈبلیو سی میں اپ گریڈ کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے جس سے 50,000سے زیادہ اِستفادہ کنندگان کے لئے خدمات کے معیار میں اِضافہ ہوگا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پسماندہ بچوں کے لئے دونوں ڈویژنوں میں ابھینندا ہوم (بحالی اور تعلیمی مرکز) کی طرز پر دو رہائشی سکول بھی قائم کئے جائیں گے۔