قصابوں کا گوشت کی قیمتوں میں ازخود اضافہ

4 برسوں میں نرخ 50 فیصد بڑھایا گیا ،عوامی حلقے انگشت بہ دنداں

سرینگر//وادی میں گوشت فروشوں نے ازخود نئی ریٹ لسٹ جاری کرتے ہوئے بغیر اجڑی گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلو اور اجڑی سمیت گوشت کی قیمت 620 روپے مقرر کر دی ہے۔ ’’یونٹی مٹن ٹریڈرز ایسوسی ایشن‘‘ کی جانب سے جاری اس نئی فہرست نے صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ کسی سرکاری منظوری یا عوامی مشاورت کے بغیر عمل میں لایا گیا ہے۔صارفین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران وادی میں گوشت کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت نے اس حساس معاملے میں کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کی، جس کے باعث صارفین مہنگائی کی چکی میں پِسنے پر مجبور ہیں۔ سال 2020 میں گوشت کی قیمت 480 روپے فی کلو تھی، جو اب بڑھ کر 700 روپے تک جا پہنچی ہے۔ماہرین کے مطابق نومبر 2020 میں قصابوں نے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال بھی کی تھی، جس کے بعد حکومت اور کشمیر اکنامک الائنس کی مداخلت سے قیمت 535 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔ اس وقت بیرون ریاستوں کی منڈیوں کا جائزہ لینے کے بعد نرخ طے کیے گئے تھے۔تاہم جون 2023 میں حکومت نے “جموں و کشمیر میٹن (لائسنسنگ اینڈ کنٹرول) آرڈر، 1973” کو منسوخ کر دیا، جس کے بعد گوشت اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ختم ہو گیا۔ اس فیصلے کے بعد قصابوں نے راتوں رات گوشت کی قیمتوں میں 115 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 650 روپے فی کلو مقرر کیا۔ اب تازہ ترین اقدام میں، بغیر کسی حکومتی نگرانی کے، قیمت مزید 50 روپے بڑھا کر 700 روپے کر دی گئی ہے۔شہریوں نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں گوشت محض شوق یا تعیش کا سامان نہیں بلکہ روزمرہ ضرورت ہے، خاص طور پر بیماری، شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ جاوید احمد خان نامی شہری نے کہا کہ “یہ نوابی کھانا نہیں بلکہ ہماری بنیادی خوراک کا حصہ ہے، اور حکومت کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ گوشت کے معیار کی بھی نگرانی ضروری ہے، کیونکہ وادی ایک ایسی منڈی بن چکی ہے جہاں غیر معیاری گوشت کی فروخت عام ہے۔اس حوالے سے کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نئی قیمتوں کے تعین میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب 650 روپے کی قیمت طے کی گئی تھی، تب سبھی فریقین کی مشاورت سے فیصلہ ہوا تھا، مگر اس بار ہمیں نظرانداز کر دیا گیا۔”2021 میں کشمیر اکنامک الائنس کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ وادی میں سالانہ 2300 کروڑ روپے کا گوشت بیرون ریاستوں سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ مقامی سطح پر 500 کروڑ روپے کا گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کریں اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ایک موثر ریگولیٹری نظام وضع کیا جائے، تاکہ قصابوں کی من مانی پر روک لگائی جا سکے۔