Hearing again on the petition filed in the Supreme Court against the internet ban in Jammu and Kashmir

جموں کشمیر میں انٹر نیٹ پابندی سے عدالت عظمیٰ میں دائر عرضی پر پھر سماعت

اگرچہ نظرثانی کا حکم ایک داخلی طریقہ کار ہے، لیکن اسے شائع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں / سالیسٹر جنرل کا جواب

سرینگر // عدالت عظمیٰ نے ایک بار پھر جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں انٹرنیٹ خدمات کی روکتھام پر مرکزی داخلہ سیکرٹری کے ماتحت خصوصی کمیٹی کے نظرثانی کے احکامات شائع کریں اور کہا کہ نظرثانی ایک خالی رسم نہیں ہو سکتی۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں انٹر نیٹ خدمات کی معطلی کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں ایک بار پھر کیس کی سماعت ہوئی جس دوران جسٹس بی آر گاوائی، جے بی پارڈی والا اور سندیپ مہتا کی تین رکنی بنچ نے دلائل سننے ہوئے ایک بار پھر جموں کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کے احکامات شائع کریں ۔ کیس کی سماعت کے دورا ن بنچ نے کہا’’اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ نظرثانی کے حکم سے بھی فریقین کے حقوق متاثر ہوں گے۔ ہم اپنی پہلی نظر میں رائے کا اظہار کرتے ہیں، اگرچہ جائزہ لینے کے مباحث کو شائع کرنا ضروری نہیں ہو سکتا، نظرثانی میں پاس کیے گئے احکامات کو شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا،جو کہ جموں کشمیر انتظامیہ کی طرف سے پیش ہوئے نے کہا کہ اگرچہ نظرثانی کا حکم ایک داخلی طریقہ کار ہے، لیکن اسے شائع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔خیال رہے کہ عدالت عظمی نے مئی 2020 میں مرکز سے جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندیوں کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کو کہا تھا۔اس موقعہ پر درخواست گزار، فاؤنڈیشن فار میڈیا پروفیشنلز کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ شادان فراست نے ان تمام ریاستوں کو پیش کیا جہاں انٹرنیٹ پر کسی نہ کسی وقت پابندیاں لگائی گئی تھیں، انہوں نے نظرثانی کے احکامات جاری کیے ہیں لیکن یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ صرف جموں و کشمیر ایسا کیوں نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا ’’میں حیران ہوں کہ جموں و کشمیر مزاحمت کر رہا ہے۔ دیگر تمام ریاستوں بشمول اروناچل پردیش، آسام، بہار، میگھالیہ بشمول سرحدی ریاستیوں نے اسے شائع کیا ہے۔ کوئی قابل عمل حکم نہیں ہے‘‘ ۔