مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا دائرہ کار، اقوام متحدہ میں ماہرین کی کانفرنس

اقوام متحدہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی کے دائرہ کار کے تعین کے لیے ایک خاکہ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مستقبل کے ان خدشات کو دور کرنے میں مدد مل سکے جو اس جدید ٹیکنالوجی کے غلبہ حاصل کرنے سے متعلق پائے جاتے ہیں۔
بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت کی عالمی کانفرنس ’ اے آئی فار گڈ گلوبل سمٹ‘ جمعرات اور جمعے کو جنیوا میں منعقد ہو گی جس میں دنیا بھر سے اس شعبے کی کمپنیوں مثلاً مائیکروسافٹ اور ایمازان اور یونیورسٹیوں کے تقریباً 300 ماہرین حصہ لیں گے۔
اقوام متحدہ کا انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا ادارہ اس سربراہ اجلاس کا اہتمام کر رہا ہے۔ ادارے کی سربراہ ڈورین بوگڈن مارٹن کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر کی نمائندگی کرنے والی آوازوں کے لیے ایک حقیقی موقع ہے کہ وہ اس عالمی پلیٹ فارم پر انتظامی اور نظم و ضبط کے مسائل کو حل کرنے لیے آگے آئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ نہ کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انسانیت اس پر انحصار کرتی ہے ، اس لیے ہمیں اسے استعمال میں لانے اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک ذمہ دارانہ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سربراہ کانفرنس مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کے لیے ممکنہ طریقہ کار اور گائیڈ لائنز کا جائزہ لے گی۔
اس کانفرنس کے شرکا میں ایمازان کے ٹیکنالوجی کے سربراہ ویرنرواگلز، گوگل کے ڈیپ مائنڈ کی چیف آپریٹنگ آفیسر لیلا ابراہیم اور سپین کے فٹ بال کے سابق کیپٹن اکر کاسیلس بھی شامل ہیں جو طبی شعبے میں آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کے استعمال کے بہت بڑے حامی ہیں۔