جموں و کشمیر میں 24 گھنٹوں میں 12 مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات

جموں و کشمیر میں 24 گھنٹوں میں 12 مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات

9 جولائی تک جموں و کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی

سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ میں جنوب مغربی مانسون کی باضابطہ آمد کے ساتھ ہی گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 12 مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کئی شاہراہیں بند ہو گئیں، مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اور دور دراز علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق مانسون کی مرطوب ہواؤں اور ایک کمزور مغربی ہوائی سلسلے کے باہمی اثر کے باعث یہ شدید موسمی سرگرمیاں رونما ہوئیں، جنہوں نے وادی چناب، پیر پنجال، شمالی و جنوبی کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ضلع ڈوڈہ کے بھلیسہ علاقے کے کلال گیسر گاؤں میں دو مختلف مقامات پر بادل پھٹنے کے باعث دریائے چناب کی ایک معاون ندی میں شدید طغیانی آگئی۔ سیلابی پانی اور ملبے نے کئی دیہات کو متاثر کیا، متعدد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اور ٹھاٹھری۔کلوٹھران سڑک آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں واقع تلیل وادی میں بھی کم از کم دو مقامات پر بادل پھٹے، جس سے بانڈی پورہ۔گریز شاہراہ کے کئی حصے بہہ گئے، درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے اور وادی گریز کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ دریائے کشن گنگا میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کے بعد انتظامیہ نے حفاظتی طور پر سڑک بند کر دی اور بحالی کا کام شروع کر دیا۔ضلع اننت ناگ کے گڈی درامن-لارنو علاقے میں بادل پھٹنے کے باعث ایک سرکاری پرائمری اسکول میں دورانِ تدریس پانی داخل ہوگیا۔ مقامی لوگوں اور عملے نے بروقت طلبہ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسی دوران عیش مقام میں شدید بارش سے بازار اور حضرت زین الدین ولی? کے زیارت گاہ کے اطراف میں پانی جمع ہوگیا، جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ضلع بارہمولہ کے رفیع آباد علاقے کے حمام گاؤں میں بادل پھٹنے سے نالہ حمل میں شدید طغیانی آگئی، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ دوسری جانب سنتھن ٹاپ کے قریب دو مقامات پر بادل پھٹنے کے بعد اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے سے کشتواڑ۔اننت ناگ قومی شاہراہ کے کئی حصے متاثر ہوئے اور ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔یو این ایس کے مطابق راجوری اور پونچھ کے مختلف علاقوں سے بھی شدید بارش کے بعد فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ لداخ کا زمینی رابطہ بھی متاثر ہوا، کیونکہ متعدد بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث زنسکار۔منالی شاہراہ کئی مقامات پر بند ہوگئی۔اسی موسمی سلسلے کے دوران سنتھن ٹاپ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے ایک بکروال چرواہے کی 100 سے زائد بھیڑیں ہلاک ہوگئیں، تاہم کسی انسانی جان کے ضیاع کی اطلاع نہیں ملی۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے کہا کہ مانسون کے آغاز کے ساتھ بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اضافہ معمول کی بات ہے، تاہم جیسے جیسے مانسون آگے بڑھے گا، بالخصوص پیر پنجال، وادی چناب اور دیگر پہاڑی اضلاع میں مختصر وقت میں شدید بارش کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ماہر موسمیات سونم لوٹس نے بتایا کہ مانسون کی نمی سے بھرپور ہوائیں جب مغربی ہوائی سلسلوں سے ٹکراتی ہیں تو محدود علاقوں میں انتہائی شدید بارش ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔آزاد موسمی تجزیہ کار فیضان احمد کے مطابق ہر فلیش فلڈ بادل پھٹنے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ ان کے بقول ایک گھنٹے میں تقریباً 100 ملی میٹر بارش کو بادل پھٹنا کہا جاتا ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں 70 ملی میٹر یا اس سے کم شدید بارش بھی اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 5 جولائی تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریاؤں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے علاقوں سے دور رہیں اور صرف سرکاری موسمی اور انتظامی ہدایات پر عمل کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران کئی مقامات پر گرج چمک، ڑالہ باری، تیز ہوائیں اور شدید بارش کا امکان برقرار رہے گا، جبکہ 5 جولائی کے بعد موسمی صورتحال میں بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جموں و کشمیر میں سیلاب اور شدید بارشوں کے مختلف واقعات میں 199 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، 11 ہزار 693 مویشی ہلاک ہوئے تھے اور ہزاروں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں اور قدرتی آفات کے لیے پہلے سے زیادہ حساس بنتا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات کے سری نگر مرکز نے پیش گوئی کی ہے کہ جموں و کشمیر میں آئندہ ایک ہفتے تک موسم متحرک رہے گا اور 9 جولائی تک بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ بالخصوص جموں ڈویڑن کے حساس علاقوں میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھر لڑھکنے کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد دو روز تک مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ طویل مدتی پیش گوئی کے مطابق 9 جولائی تک دونوں ڈویڑنوں، کشمیر اور جموں، میں مختلف شدت کی بارشیں ہوتی رہیں گی۔محکمہ نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 3 جولائی اور پھر 7 سے 9 جولائی کے دوران کئی مقامات پر بارش کا امکان ہے، جبکہ 4 سے 6 جولائی کے درمیان چند مقامات پر بارش متوقع ہے۔ دوسری جانب جموں ڈویڑن میں 3 جولائی اور 6 سے 8 جولائی تک وسیع پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ 4، 5 اور 9 جولائی کو بھی بیشتر علاقوں میں بارش ہوسکتی ہے۔موسمیاتی مرکز کے مطابق آئندہ پانچ روز کے دوران کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر ہوا کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ جمعہ کے روز جموں ڈویڑن کے بعض علاقوں میں مختصر مدت کے لیے شدید بارش بھی ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے 3 سے 6 جولائی کے دوران پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھر لڑھکنے کے خدشے کے پیش نظر خصوصی انتباہ جاری کیا ہے۔ خاص طور پر قومی شاہراہوں اور پہاڑی سڑکوں پر سفر کرنے والوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے مقامی شہریوں، سیاحوں اور شری امرناتھ یاترا پر جانے والے عقیدت مندوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سرکاری موسمی بلیٹن پر مسلسل نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خاص طور پر جموں ڈویڑن کے حساس علاقوں میں سفر کے دوران مکمل احتیاط برتیں، کیونکہ آئندہ چند روز تک شدید بارش، تیز ہواؤں، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے خطرات برقرار رہنے کا امکان ہے۔