jy ram ramesh

’ہم اڈانی کے ہیں کون-2‘، حسب وعدہ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے پیش کیا تین سوالوں کا دوسرا سیٹ

ہنڈن برگ-اڈانی معاملے میں کانگریس لگاتار مرکز کی مودی حکومت پر حملہ کر رہی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے 5 فروری کو پریس کانفرنس کر کچھ تلخ سوالات مرکزی حکومت سے پوچھے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ 6 فروری کو سوالوں کا دوسرا سیٹ لے کر حاضر ہوں گے۔ آج حسب وعدہ جئے رام رمیش نے ’ہم اڈانی کے ہیں کون-2‘ (ایچ اے ایچ کے 2) عنوان کے تحت تین سوالوں پر مبنی دوسرا سیٹ میڈیا اہلکاروں کے سامنے رکھا۔ وہ تین سوالات اس طرح ہیں:1. آئی ڈی بی آئی بینک، نیو انڈیا ایشیورنس اور جنرل انشورنس کارپوریشن جیسے ناکام ’ڈس انوسٹمنٹ‘ سے باہر نکالنے کے لیے ایل آئی سی فنڈس کا استعمال کرنے کے متعلق آپ کی حکومت کا طویل ٹریک ریکارڈ رہا ہے۔ پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو ایسے حالات سے باہر نکالنا ایک بات ہے، لیکن اپنے سرمایہ دار دوستوں کو مزید امیر بنانے کے لیے 30 کروڑ وفادار پالیسی ہولڈرس کی بچت کا استعمال کرنا دوسری بات ہے۔ ایل آئی سی نے جوکھم بھرے اڈانی گروپ میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کیسے کی، جبکہ نجی فنڈ منیجرس نے بھی اس سے کنارہ کر لیا تھا؟ کیا یہ یقینی کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پبلک سیکٹر کے اہم مالیاتی ادارے سرمایہ کاری کرتے وقت اپنے پرائیویٹ سیکٹر کے ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ بیدار رہیں؟ یا پھر یہ آپ کے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے آپ کے ’من کی بینکنگ‘ کی مزید ایک مثال تھی؟

  1. اڈانی گروپ کے خلاف دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزام کچھ وقت سے عوامی پلیٹ فارم پر ہیں۔ اڈانی گروپ میں اہم فنڈز کی سرمایہ کاری کے حقیقی مستفیدین کون ہیں، اس سلسلے میں کئی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اصل مالکانہ حق سے متعلق دھوکہ دہی کے معاملوں میں، سیبی کے ذریعہ ایک معاملے کی جانچ سمیت، مجموعی طور پر 4 معاملوں کی جانچ کی گئی ہے۔ اس جانکاری سامنے رکھتے ہوئے کیا وزیر اعظم دفتر، وزارت مالیات یا خود ایل آئی سی میں سے کسی نے ان مشتبہ سرمایہ کاریوں کے بارے میں کوئی فکر ظاہر کی تھی؟ کیا ایسی فکروں کو خارج کر دیا گیا تھا، اور اگر ہاں تو کس کے ذریعہ؟
  2. ہنڈن برگ کے الزامات کے بعد پہلی بکوالی میں ایل آئی سی کے ذریعہ خریدے گئے اڈانی گروپ کے شیئرس کی قیمت 32000 کروڑ روپے گر گئی، جس سے ایل آئی سی نے خود مانا ہے کہ 27 جنوری 2023 کو اس کے شیئرس کی قیمت 56142 کروڑ روپے رہ گئی۔ تب سے اڈانی انفراسٹرکچر کے کئی شیئرس میں 50 فیصد کی مزید گراوٹ آئی ہے۔ کیا آپ 24 جنوری کے بعد ایل آئی سی کے ذریعہ اڈانی گروپ میں کی گئی سرمایہ کاری سے ہوئے نقصان کی صحیح جانکاری منظر عام پر لائیں گے؟ نفٹی 50 انڈیکس میں 2 فیصد کی گراوٹ کے مقابلے میں ایل آئی سی کی لسٹیڈ قیمت گزشتہ دو ہفتوں میں 14 فیصد گر گئی ہے۔ چونکہ ایل آئی سی کے ذریعہ اڈانی گروپ میں بے سمت سرمایہ کاری سے اس کے 34 لاکھ خوردہ شیئر ہولڈرس کا اس میں اعتماد کم ہو رہا ہے، ایسے میں آپ ان کے شبہات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدام کریں گے؟