سرینگر//وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مڈل کلاس کو بڑی راحت دی ہے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ یعنی اب سات لاکھ تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔2023-24 کے عام انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی لال ساڑی میں بجٹ سفارشات پیش کیں اور انہوں نے مڈل کلاس کو بڑی راحت دی ہے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ نئے ٹیکس نظام کے تحت اب سات لاکھ تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا، جو اب تک پانچ لاکھ روپے تھی۔ اس کے ساتھ ہی انکم ٹیکس کے نئے نظام کو پرکشش بنانے کے لیے ٹیکس سلیب میں بڑی تبدیلی بھی کی گئی ہے۔نرملا سیتارمن نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ نئے ٹیکس نظام کے لیے 6 سلیب بنائے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جن کی آمدنی 7 لاکھ روپے تک ہے، انھیں ایک روپے بھی ٹیکس نہیں دینا ہوگا، لیکن ان کی آمدنی جیسے ہی 7 لاکھ روپے سے ایک روپے بھی بڑھ جاتی ہے تو انھیں ٹیکس دینا ہوگا اور وہ ٹیکس کی رقم صرف ایک روپے پر نہیں بلکہ 3 لاکھ سے اوپر کی پوری آمدنی پر دینی ہوگی۔ یعنی جن کی آمدنی 7 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، انھیں نئے انکم ٹیکس نظام کے تحت اب 3 لاکھ روپے تک کی آمدنی (پہلے سلیب) پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔ لیکن آمدنی 7 لاکھ روپے سے اوپر جانے پر 3 سے 6 لاکھ والے دوسرے سلیب میں 5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ اسی طرح 6 سے 9 لاکھ روپے تک کے تیسرے سلیب پر 10 فیصد، 9 سے 12 لاکھ روپے تک کے چوتھے سلیب پر 15 فیصد، 12 سے 15 لاکھ روپے کے پانچویں سلیب پر 20 فیصد، اور 15 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 30 فیصد انکم ٹیکس دینا ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ اب تک نئے ٹیکس نظام میں 2.5 لاکھ روپے تک کی ا?مدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوتا ہے۔ 2.50 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 5 فیصد ٹیکس لگتا ہے جس میں 87اے کے تحت ریبیٹ کا انتظام ہے۔ 5 سے 7.50 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 10 فیصد، 7.50 لاکھ سے 10 لاکھ تک کی آمدنی پر 15 فیصد، 10 لاکھ سے 12.5 لاکھ روپے کی آمدنی پر 20 فیصد، 12.5 لاکھ سے 15 لاکھ تک کی آمدنی پر 25 فیصد، اور 15 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس دینا ہوتا ہے۔
امن و سلامتی ہندوستان کے SCOویژن کا پہلا ستون
7.8 فیصد شرحنمو باقی مالی سال کیلئے نیک شگون
جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا 10روزہ خزان اجلاس ، تیاریاں جاری
وزیر اعلیٰ نے گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز جے اینڈ کے سے ملاقات کی
جموںوکشمیر نے ایس کے آئی سی سی میں اِنتظامی ڈیٹا ہم آہنگی پر یوٹی سطح کی ورکشاپ کا اِنعقاد کیا
جموں و کشمیر میں بجلی کے نئے نرخ نافذ
11 ستمبر کو بینک یونینوں کی ملک گیر ہڑتال
کمرشل ایل پی جی سلنڈر 9.50روپے مہنگا
مرکزی ملازمین کا مہنگائی الاؤنس 64 فیصد ہونے کا امکان
چیف سیکرٹری کی سربراہی میں یوٹی ایچ پی ایس سی نے اَربن چیلنج فنڈ کے تحت 2,692.58 کروڑ روپے کے اَربن ٹرانسفارمیشن پروجیکٹوں کی منظور ی دِی










